خطے کے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اور کشیدگی میں کمی ضروری، ورنہ پورا جنوبی ایشیا اس کے اثرات بھگتے گا
اسلام آباد (آئی این پی ) سابق وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ مودی اور عمران خان نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی، جنوبی ایشیا میں بھارت کی جارحانہ پالیسی نے پورے خطے کو ناراض کیا ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی، تاہم اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت برسوں سے پاکستان کے خلاف دراندازی کے الزامات اور فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیتا آ رہا ہے، 2016، 2019 اور 2022 کی مثالیں اس کی واضح علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی ادارے میں بھارت اور پاکستان دونوں ممبر ضرور ہیں، مگر فیصلہ کن اثر امریکا اور یورپی ممالک جیسی طاقتوں کا ہوتا ہے، جو پاکستان کے خلاف اس دبائو کا حصہ نہیں بنے۔ چند برسوں میں صرف دو افراد نے پاکستان کے خلاف آئی ایم ایف کو خط لکھے کہ پاکستان کو قرض نہ دیا جائے، ایک عمران خان اور دوسرا نریندر مودی۔ انھوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف خطوط تک محدود نہیں رہا، بلکہ جہاں جہاں ممکن ہوا پاکستان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ خرم دستگیر نے کہا کہ نئی دہلی کی جارحانہ پالیسی نے پورے جنوبی ایشیا کو ناراض کر دیا ہے، پاک بھارت کشیدگی اب دو نہیں تین طاقتوںامریکا، چین اور بھارت کے درمیان تنائو کی صورت اختیار کر چکی ہے، اور اگر وقت پر ڈی اسکیلیشن نہ ہوئی تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔خرم دستگیر نے زور دیا کہ خطے کے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اور کشیدگی میں کمی ضروری ہے، ورنہ صرف پاکستان یا بھارت نہیں پورا جنوبی ایشیا اس کے اثرات بھگتے گا۔