پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی اور ملٹری ڈپلومیسی نے اسے جنوبی ایشیا میں ایک مضبوط اور قابلِ موازنہ فوجی قوت بنا دیا ہے۔
بھارتی جریدہ دی ہندو نے عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور کامیاب عسکری سفارتکاری کا اعتراف کیا ہے۔جریدے کے مطابق مئی 2025 میں پاکستانی دفاعی صنعت کی کامیابی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پذیرائی نے پاکستانی دفاعی شعبے کے لیے مثبت اثرات مرتب کیے۔پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہتر تعلقات کے ذریعے دفاعی برآمدات میں تیزی پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان آذربائیجان، میانمار، نائیجیریا اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی معاہدوں کے لیے تیار ہے۔
دی ہندو کے مطابق چین اور ترکی کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے نتیجے میں پاکستان کی دفاعی پیداوار کئی ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔ خلیج کی بڑھتی ہوئی سکیورٹی وابستگی نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بھی مضبوط ساکھ فراہم کی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق معرکہ حق میں کامیابی اور موثر ملٹری ڈپلومیسی نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد دفاعی صنعتی مرکز بنا دیا ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا بطور نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر کردار اس کی جامع دفاعی پالیسی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ آپریشن سندور میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔