ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی کے گھر کی تفصیلی تلاشی کے دوران 18 سے زائد لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرونک آلات تحویل میں لے لیے ہیں۔
ایف آئی اے کی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر علی مردان کی زیر نگرانی ملزم ارمغان کے گھر پہنچی، جہاں سرچنگ کا عمل جاری ہے۔ گھر کے مختلف حصوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور ارمغان کے زیر استعمال گاڑی بھی چیک کی جا رہی ہے۔ انوینٹری کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے تاکہ ضبط کی گئی اشیاء کو صحیح طریقے سے ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) کے ریکارڈ میں شامل کیا جا سکے۔تلاشی کے دوران ملزم کے گھر سے کال سینٹر کے لیے استعمال ہونے والے 18 سے زائد لیپ ٹاپ تحویل میں لیے گئے، جن کا استعمال مبینہ طور پر فراڈ میں کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ، دیگر الیکٹرونک آلات اور ارمغان کی ملکیتی مہنگی کار بھی ضبط کر لی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کار ممکنہ طور پر منی لانڈرنگ کے پیسوں سے خریدی گئی تھی۔ایف آئی اے نے ضبط کی گئی کار کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لئے بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، ارمغان کے گھر کی تلاشی کے لئے ایف آئی اے نے عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کیے تھے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔