کراچی میں جاری مصطفیٰ عامر قتل کیس کی حالیہ سماعت کے دوران، مرکزی ملزم ارمغان قریشی کی والدہ نے اپنے بیٹے سے ملاقات کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث پولیس نے انہیں روک دیا۔
پولیس اہلکاروں نے وضاحت کی کہ افسرانِ بالا کی ہدایت پر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔اس کیس کی تفتیش کے دوران مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، ارمغان قریشی متعدد بار کورئیر سروس کے ذریعے منشیات منگواتے رہے ہیں، جو شہر کے پوش علاقوں میں واقع کیفیز اور مختلف تقریبات میں استعمال ہوتی تھیں۔ مزید برآں، ارمغان نے اپنے والد کے نام پر بھی منشیات کی ترسیل کی۔تفتیشی حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس قتل کے پیچھے ذاتی رنجش اور ایک لڑکی کے ساتھ تعلقات کارفرما تھے۔
مقتول مصطفیٰ عامر اس دوستی کے بارے میں جانتے تھے، جو ممکنہ طور پر قتل کی وجہ بنی۔مزید برآں، ارمغان قریشی کے گھر سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں میں ایک اسرائیلی ساختہ رائفل بھی شامل ہے، جس کے لائسنس تاحال پیش نہیں کیے گئے۔اس کیس کی تفتیش جاری ہے، اور مزید تفصیلات سامنے آنے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔