وزارت قانون نے حکومت کا نیب ترمیمی بل واپس لے لیا-

کچھ ممبرز کیوں نہیں آئے:چیئرمین کمیٹی ، وزیر بن جائیں تو ممبر نہیں رہتے: رکن 
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وزارت قانون نے حکومت کا قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی بل واپس لے لیا۔ کمیٹی کا محمود بشیر ورک کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ لیا گیا۔نیب ترمیمی بل میں نیب ریمانڈ 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنے کی تجویز تھی۔ وزارت قانون کے حکام کی جانب سے کمیٹی کوبتایاگیا کہ وزارت قانون کی جانب سے 13 منصوبے تجویز کئے گئے ، پاکستان میں 13 بڑی جیلوں کو کورٹس کے ساتھ منسلک کیا جارہا ہے، گزشتہ سال کیلئے جو فنڈ ملا تھا وہ استعمال کرلیا گیا ہے، یہی سسٹم دیگر صوبوں میں بھی لانے جارہے ہیں، اسلام آباد کی تمام کورٹس کو ڈیجیٹلائز کررہے ہیں،بینکنگ کورٹس پورے ملک میں اس سسٹم کیساتھ منسلک کردئیے گئے ہیں، وفاقی وزیرقانون اعظم نزیرتارڑ نے کہا کہ منصوبے خود ایک دفعہ ریویو کر کے دوبارہ پیش کر دوں گا،ہم بین الاقوامی سٹینڈرڈ کی طرف بڑھ رہے ہیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پارلیمنٹ ہائوس، سپریم کورٹ کے اس علاقے میں زیادہ رش نہیں ہونا چاہئے، یہاں ایک ایسی عمارت بھی بنی ہوئی ہے جو سکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے بڑی خطرناک ہے ، اس عمارت سے سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہائوس، وزیراعظم ہائوس پربھی نظر رکھی جاسکتی ہے، عدالتوں، ٹربیونلز کو ایک عمارت کے اندر ہونا چاہئے، چیئرمین کمیٹی نے اجلاس کے دوران پوچھاکہ ہمارے کچھ ممبران جو اب وزیر ہو گئے وہ کمیٹی میں کیوں نہیں آئے، ممبرکمیٹی زہراودودنے کہاکہ جو وزیر بن جائیں وہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے ممبر نہیں رہتے،چیئرمین نے کہاکہ ممبرز تب نہیں رہیں گے جب ہم ڈی نوٹیفائی کریں گے۔