کینیڈا کے سب سے بڑے صوبے اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے امریکا کی تین ریاستوں کو بجلی کی برآمد پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
متاثرہ ریاستیں اور صارفین
اونٹاریو سے امریکا کی تین ریاستوں نیویارک، مشی گن اور مینیسوٹا کو بجلی فراہم کی جاتی ہے، جہاں تقریباً 15 لاکھ صارفین اس بجلی سے مستفید ہو رہے ہیں۔
امریکی حکومت کا ردعمل
امریکا کے سیکریٹری تجارت ہاورڈ لٹنیک نے ڈگ فورڈ سے رابطہ کر کے برآمدی ٹیکس کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق، ٹیلی فونک گفتگو کافی جارحانہ رہی، جس کے دوران ڈگ فورڈ نے واضح کیا کہ جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس نہیں لیتے، وہ بھی اپنا فیصلہ واپس نہیں لیں گے۔
اونٹاریو حکومت کے مزید اقدامات
ڈگ فورڈ نے ابھی تک برآمدی ٹیکس کے نفاذ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔اس سے قبل، وہ امریکی ریاستوں کو بجلی کی فراہمی روکنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔اس فیصلے سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہونے کا امکان ہے۔
پس منظر اور ممکنہ اثرات
ڈگ فورڈ کا یہ اقدام امریکی تجارتی پالیسیوں کے ردعمل میں کیا جا رہا ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض کینیڈین مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کیے ہیں۔یہ فیصلہ امریکی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اونٹاریو کی حکومت اس اقدام کو اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔