داتا دربار کے سامنے نشے کے عادی افراد کے خلاف اقدام: جنگلہ لگانے کی تفصیل

داتا دربار کے سامنے نشے کے عادی افراد کے خلاف اقدام: جنگلہ لگانے کی تفصیل

پسِ منظر:
داتا دربار لاہور، جو ملک کا سب سے بڑا صوفی دربار ہے، روزانہ ہزاروں عقیدت مندوں اور زائرین کی آمد کا مرکز ہوتا ہے۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں دربار کے سامنے فٹ پاتھ نشے کے عادی افراد کا مستقل ٹھکانہ بن چکا تھا۔ یہ افراد یہاں سوتے، منشیات استعمال کرتے، اور بعض اوقات گزرنے والے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے تھے۔

شہریوں کی شکایات:
متعدد شہریوں اور زائرین نے انتظامیہ کو شکایات درج کروائیں کہ نشے کے عادی افراد کی بڑی تعداد کی موجودگی سے نہ صرف دربار کے تقدس پر اثر پڑ رہا ہے بلکہ عوامی گزرگاہ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق:فٹ پاتھ پر سونے کی وجہ سے عام شہریوں کا گزرنا مشکل ہو گیا تھا۔صفائی ستھرائی کا مسئلہ بڑھ گیا تھا۔منشیات کے استعمال سے ماحول خراب ہو رہا تھا اور بعض افراد شہریوں کو ہراساں بھی کرتے تھے۔
انتظامیہ کا فیصلہ:
ان مسائل کے حل کے لیے داتا دربار انتظامیہ نے فٹ پاتھ پر جنگلہ لگانے کا فیصلہ کیا تاکہ نشے کے عادی افراد کو وہاں سونے سے روکا جا سکے۔ انتظامیہ کے مطابق، یہ اقدام:فٹ پاتھ کو عام شہریوں کے لیے دوبارہ قابلِ استعمال بنائے گا۔داتا دربار کے تقدس اور ماحول کو بہتر کرے گا۔شہر کی صفائی اور نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں مددگار ہوگا۔
عمل درآمد:

پہلا مرحلہ: فٹ پاتھ کے گرد لوہے کا جنگلہ لگانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اگلا مرحلہ: جنگلے کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد دربار کے آس پاس مستقل نگرانی کے لیے سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا سکتے ہیں تاکہ نشے کے عادی افراد دوبارہ یہاں نہ آ سکیں۔
تنقید اور سوالات:
یہ اقدام اگرچہ فوری طور پر شہریوں کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتا ہے، مگر کچھ ماہرین اور سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں۔نشے کے عادی افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹانے کے بعد وہ کسی اور جگہ چلے جائیں گے، جس سے مسئلہ کسی اور علاقے میں منتقل ہو جائے گا۔ان افراد کی بحالی کے لیے حکومتی سطح پر کوئی پالیسی نظر نہیں آ رہی۔سماجی ماہرین کا مؤقف ہے کہ ان افراد کے لیے بحالی مراکز کا قیام اور نفسیاتی و طبی علاج زیادہ مؤثر حل ہو سکتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری:

اگر حکومت واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو صرف جنگلہ لگانے کے بجائے، بحالی مراکز قائم کرے جہاں نشے کے عادی افراد کو مفت علاج اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔پولیس اور فلاحی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی ہو اور نشے کے عادی افراد کو صحت مند زندگی کی طرف واپس لایا جا سکے۔
نتیجہ:
جنگلہ لگانے کا اقدام عارضی حل ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اگر نشے کے عادی افراد کے لیے بحالی کے مستقل منصوبے نہیں بنائے گئے، تو وہ کسی اور مقام پر جا کر پھر سے یہی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اصل ضرورت سماجی اور طبی حل نکالنے کی ہے، تاکہ ان افراد کو معاشرے میں دوبارہ شامل کیا جا سکے۔