لارڈز میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے کے ابتدائی روز بیٹنگ لائن اپ مشکلات کا شکار رہی جبکہ فاسٹ بولرز نے مکمل طور پر کھیل پر غلبہ حاصل کر لیا۔
میچ کے پہلے دن کے اختتام پر نیوزی لینڈ نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 61 رنز بنا لیے تھے اور وہ انگلینڈ کی پہلی اننگز کے اسکور 140 رنز سے 79 رنز پیچھے ہے۔ خراب موسم اور بارش کے باعث میچ کا بڑا حصہ متاثر ہوا۔اس سے قبل انگلینڈ کی پوری ٹیم محض 140 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ کیویز کے فاسٹ بولر کائل جیمیسن نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں اور انگلش بیٹنگ لائن کو شدید مشکلات میں ڈال دیا۔انگلینڈ کی جانب سے صرف ہیری بروک ہی مزاحمت کر سکے جنہوں نے 56 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ دیگر بلے باز بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ ابتدائی مرحلے میں ہی ایمیلیو گے، بین ڈکٹ، جیکب بیتھل اور جو روٹ جلد پویلین لوٹ گئے جس سے ٹیم دباؤ میں آ گئی۔بعد ازاں کپتان بین اسٹوکس سمیت دیگر بیٹرز بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور پوری ٹیم جلد ہی آؤٹ ہو گئی۔
جواب میں نیوزی لینڈ کی اننگز کا آغاز بھی خراب رہا، تاہم انگلینڈ کے اولی رابنسن نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے پہلے ہی اوور میں تین وکٹیں حاصل کر کے کیویز کو شدید مشکلات میں ڈال دیا۔ مجموعی طور پر انہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔نیوزی لینڈ کی جانب سے گلین فلپس اور نیتھن اسمتھ نے ساتویں وکٹ کے لیے ذمہ دارانہ شراکت قائم کر کے مزید نقصان سے ٹیم کو بچایا، تاہم خراب روشنی کے باعث کھیل وقت سے پہلے روک دیا گیا۔ماہرین کے مطابق میچ کے پہلے دن کی صورتحال واضح کرتی ہے کہ پچ فاسٹ بولرز کے لیے انتہائی سازگار ہے اور آنے والے دنوں میں بھی بیٹنگ مزید مشکل ہو سکتی ہے۔