یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران جیٹ فیول کی سپلائی میں کسی بڑی قلت کے آثار موجود نہیں ہیں، تاہم عالمی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ایئرلائنز کو بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا سامنا رہے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کے ٹرانسپورٹ کمشنر نے کہا ہے کہ فی الحال ایوی ایشن فیول کی سپلائی مستحکم ہے اور کسی فوری شارٹج کے شواہد نہیں ملے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ صورتحال ہر ملک اور ہر ایئرلائن کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ مقامی سطح پر قیمتیں اور سپلائی چین مختلف اثرات قبول کر رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق حالیہ عرصے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کئی ایئرلائنز اپنے غیر منافع بخش روٹس بند کرنے یا ان میں کمی کرنے پر مجبور ہوئی ہیں، جس سے فضائی سفر کے شعبے میں معاشی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں مسافروں کو ہوائی کرایوں میں مزید اضافہ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔یورپی یونین حکام کے مطابق اس وقت خطے میں امریکہ اور نائیجیریا سے آنے والی سپلائی نے مشرق وسطیٰ سے ہونے والی کسی بھی ممکنہ کمی کو پورا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں عارضی استحکام برقرار ہے۔
تاہم توانائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی یا سپلائی لائن میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوئی تو صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے اور اس کے اثرات نہ صرف یورپ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔یورپی حکام نے مزید کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ہنگامی ذخائر مکمل طور پر موجود ہیں اور فوری بحران کا کوئی خطرہ نہیں، تاہم توانائی مارکیٹ پر مسلسل نگرانی جاری رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔