عمان کے مرکزی تیل برآمدی مرکز مینا الفحل میں ایک دھماکے کے بعد خام تیل کی لوڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی سپلائی چین سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دو باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ دھماکہ ٹرمینل کے سنگل بوائے مورنگ (SBM) 1 اور SBM 2 کے درمیان پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات میں اس واقعے کی ممکنہ وجہ ڈرون حملہ قرار دی جا رہی ہے، تاہم تاحال کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے فوری بعد ٹرمینل پر تمام لوڈنگ آپریشنز روک دیے گئے، جبکہ متعدد سپر ٹینکرز کو بندرگاہ کے بیرونی حصے میں انتظار کی حالت میں دیکھا گیا۔ اس صورتحال نے تیل کی ترسیل کے تسلسل اور عالمی سپلائی چین پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ابھی تک عمانی حکام یا ٹرمینل انتظامیہ کی جانب سے کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق واقعہ دفتری اوقات کے بعد پیش آیا، جس کے باعث فوری طور پر مکمل معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
خطے میں پہلے سے جاری جغرافیائی اور سکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی اہم تنصیبات پر کسی بھی قسم کا حملہ نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تیل منڈیوں پر بھی براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
توانائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی منڈیاں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
تاحال صورتحال کی مزید تفصیلات اور سرکاری تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس واقعے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔