کویت پر ڈرون حملے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک ہیں: حافظ عبدالکریم

مسلم ممالک تنازعات کے حل کے لئے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں 
کسی خودمختار ریاست کی سلامتی اور حدود کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے:امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث 
لاہور( خصوصی رپورٹر) امرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کویت پر ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے کے امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے لیے انتہائی خطرناک اور باعثِ تشویش ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی، تصادم اور طاقت کے استعمال کی بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات اور بحرانوں کا شکار ہے، ایسے میں کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ کسی بھی خودمختار ریاست کی سلامتی اور علاقائی حدود کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف متعلقہ ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے خطے میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کو باہمی اختلافات کے حل کے لیے تحمل، تدبر اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا تقاضا ہے کہ اسلامی ممالک تصادم کے بجائے اتحاد، تعاون اور مکالمے کی راہ اختیار کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کو اتحاد، اخوت اور باہمی تعاون کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے تمام تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے