لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی مسترد ہونے کے بعد کشیدگی میں اضافہ، ہلاکتیں 3526 تک پہنچ گئیں، حزب اللہ کا معاہدے کو ’ڈھونگ‘ قرار دیا

لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی مسترد ہونے کے بعد کشیدگی میں اضافہ، ہلاکتیں 3526 تک پہنچ گئیں، حزب اللہ کا معاہدے کو ’ڈھونگ‘ قرار دیا

لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی ایک نئے سیاسی بحران کا شکار ہو گئی ہے، کیونکہ حزب اللہ نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے “ڈھونگ” قرار دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے حکام نے واشنگٹن میں امریکی ثالثی کے تحت ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں میں کمی لانا تھا۔ تاہم معاہدے کے اعلان کے باوجود زمینی صورتحال میں کوئی واضح بہتری نظر نہیں آ رہی۔حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے گا، شمالی اسرائیل بھی جوابی کارروائیوں کی زد میں رہے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد جنگ بندی کی عملی حیثیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ مہینوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے، جس میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان سمیت مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب امریکا میں بھی اس تنازع کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد سفارتی یا عسکری دونوں طریقوں سے حاصل کرے گا، جسے خطے کی صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل لبنانی سرزمین سے انخلا نہیں کرتا، خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ ایرانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لبنان کا معاملہ خطے میں جاری سفارتی مذاکرات کا حصہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کو تسلیم نہ کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس وقت لبنان، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی سفارتی کوششوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔