پاکستان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کرنے کی رپورٹس کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے اس حوالے سے کوئی معلومات شیئر نہیں کیں اور اس قسم کی رپورٹس بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔ انہوں نے اس دعوے کو بھی واضح طور پر رد کیا کہ 29 مئی کو ہونے والی اسحاق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ کی ملاقات سے متعلق کوئی معلومات امریکی انتظامیہ کے ساتھ مشترکہ شیئر کی گئی ہیں۔طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اصولی مؤقف، علاقائی استحکام اور باہمی احترام پر مبنی ہے، اور کسی بھی ملک کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے کے قیاس آرائیوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریاؤں کے پانی سے متعلق ممکنہ اقدامات کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر نئی دہلی نے پانی روکنے یا اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، تو پاکستان کے پاس جواب دینے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی آبی اور غذائی سلامتی کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا۔اس کے علاوہ، ترجمان نے ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو بھی دہرایا اور بتایا کہ پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ابھی بھی دس پاکستانی شہری صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں، اور پاکستان ان سے رابطے میں ہے تاکہ یرغمالیوں کی محفوظ واپسی ممکن بنائی جا سکے۔ اس سلسلے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔طاہر اندرابی نے لائن آف کنٹرول پر گرفتار پاکستانی شہری ذیشان کی جلد رہائی کے لیے اقدامات کرنے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے فعال سفارتی کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ آخر میں، انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کویت اور بحرین پر حملوں کی بھی مذمت کی اور بتایا کہ پاکستان مسلسل افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے، اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام جائز اور قانونی اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔