وائٹ ہاؤس نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر اپنے مؤقف کو واضح طور پر بیان کرنے سے گریز کیا ہے۔
اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کیرولین لیویٹ، نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی مذاکراتی ٹیم نے پہلے ہی اپنے مؤقف اور ریڈ لائنز کو واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، اور اس کے باعث تہران کی جانب سے معاہدے کی خواہش میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
دوسری طرف، پاکستان نے ایران اور امریکا کے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیش کش کی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، پاکستان نے سیز فائر کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں مذاکرات منعقد کرنے کی تجویز دی ہے، جہاں فریقین نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔ ایک اور خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد بھی پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔