اے آئی ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت،اپنی کامیابی کاایجنڈا طے کرنا ہوگا:سپیکر پنجاب اسمبلی

حکومت اور پالیسی بنانے والوں کو اے آئی کے متعلق جاگنا ہوگا، ہمیں اے آئی سے متعلق قانون سازی اور فریم ورک بنانا ہوگا،ملک محمد احمد خان
ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کو چیلنجز کا سامنا،موجودہ حکومت نے ترقیاتی کاموں کا رخ دیہات کی طرف موڑدیا، لاہورگیریژن یونی ورسٹی میں تقریب سے خطاب
لاہور(سپیشل رپورٹر) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے لاہور گریژن یونی ورسٹی میں منعقدہ پانچویں انٹرنیشنل کانفرنس مینجمنٹ سائنسز کی اختتامی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے، ہمیں اپنی کامیابی کا ایجنڈا طے کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اے آئی کو زندگی میں شامل نہ کیا تو دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے ملک میں اے آئی کو کیسے لانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انسانوں نے ہمیشہ ایسی ٹیکنالوجی بنائی جسے بعد میں کنٹرول نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی اپنی ایجادات کے باعث برباد ہوا۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے قانون سازی کے عمل میں ٹیکنالوجی کی شمولیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معزز ممبران اسمبلی جو قانون سازی کرتے ہیں، وہ اے آئی ٹیکنالوجی سے نا آشنا ہیں، ہمیں اے آئی کے متعلق شعور پیدا کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی کے متعلق پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اور واضح کیا کہ آپ مشین کو لیڈر شپ کردار ادا کرنے کا حق نہیں دے سکتے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے زور دیا کہ حکومت، سیاسی جماعتیں، ادارے، عدلیہ اور عسکری بازو سب کی توجہ دیہاتوں کی طرف ہونی چاہیے۔دیہات کی کسمپرسی کا احساس ہے اور میں موجودہ حکومت کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ترقیاتی کاموں کا رخ دیہات کی طرف موڑدیا ہے۔ نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ نوجوان ہمارے ملک کی آبادی ہیں لیکن پالیسی بنانے والا کوئی نہیں۔اگر تعلیم کا بجٹ دس سے تین فیصد رہ گیا ہے تو اسے کم از کم پانچ فیصد کرنا ہوگا۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے نوجوانوں کی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ ہمارے طلبہ کے ہاتھوں میں پٹرول بم یا لاٹھی ہو، ساٹھ فیصد نوجوان جو سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، وہ پڑھے لکھے ہیں اور اے آئی پر مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر ان نوجوانوں کو اے آئی کی طرف لے جائیں تو ایجادات اور پلاننگ نوجوانوں کے ہاتھ میں آ جائے گی۔حکومت اور پالیسی بنانے والوں کو اے آئی کے متعلق جاگنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اے آئی سے متعلق قانون سازی اور فریم ورک بنانا ہوگا۔سماجی رویوں پر بات کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ میں کسی فتویٰ سے ڈرے بغیر کم عمر بچیوں کی شادیوں کا شدید ترین مخالف ہوں۔ دورانِ خطاب سپیکر ملک محمد احمد خان نے یونی ورسٹی کے طلبہ کو پنجاب اسمبلی کے دورے کی دعو ت بھی دی۔ اس موقع پر وائس چانسلر گیریژن یونی ورسٹی نے کہا کہ ہم نے جدید ٹیکنالوجی کو مختلف ادوار میں بدلتے دیکھا ہے۔ انہوں نے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے طلبہ میں ایجادات کی کمی ہوگئی ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔