سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
لندن کے روزنامہ القدس العربی نے اس ممکنہ اتحادکودفاعی چھتری سے تعبیرکیا اس استعارے میں ایک پیغام پوشیدہ ہے: اجتماعی سلامتی کاتصور،جہاں ایک پرحملہ سب پرحملہ سمجھا جائے۔ایسی چھتری جوایک کے بعددوسرے اسلامی ملک پرحملے کے تسلسل کوروک سکے۔یہ تعبیرمحض لفظی صنعت نہیں بلکہ اجتماعی بقاکی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے۔مگرایسی شق اسی وقت موثرہوگی جب تمام اراکین سیاسی عزم اورعسکری تیاری میں ہم آہنگ ہوں۔
دفاعی صنعت میں خودانحصاری کیلئے ضروری ہے کہ اسلحہ سازی کی مشترکہ پیداوار،ڈرون اورمیزائل پروگرام،اوردفاعی سافٹ ویئرکی تیاری پرمکمل توجہ دی جائے اوربیرونی طاقتوں پرانحصارکم کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے بھی کئے جائیں۔ فوری طور پرنوجوان سائنس دانوں اورانجینئروں کیلئے وظائف اورتحقیقاتی گرانٹس جاری کرکے دفاعی خود کفالت کی طرف پوری توجہ دی جائے۔یہ اتحادمحض عسکری بندوبست نہ ہوبلکہ تہذیبی خوداعتمادی اورفکری جہت کی علامت ہو۔اگراس کے پس منظرمیں انصاف،باہمی احترام اور خودمختاری کااصول ہوتویہ امت کیلئیاحیائے نوکی تمہیدبن سکتاہے۔
ترک قیادت نے یورپی یونین کی مثال دے کرغلبے کی سیاست کی نفی کی ہے۔ترک وزیرِخارجہ نے یورپی تجربے کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ نہ ترک غلبہ،نہ عرب،نہ فارسی بلکہ ذمہ داراشتراک۔ اس تناظرمیں یورپی یونین کاحوالہ ایک ماڈل کے طورپردیاگیا۔سوال یہ ہے کہ کیامسلم دنیابھی اپنے تاریخی اختلافات سے بلندہوکرمشترک پلیٹ فارم تشکیل دے سکتی ہے؟اگریہ اتحاد کسی ایک ملک کی بالادستی کے بجائے مساوی شراکت پرقائم ہوتو اس کی قبولیت بڑھے گی۔ان اختلافات کوختم کرنے کیلئے بنیادی اقدامات اٹھاتے ہوئے فوری دفاعی اتحادکومعاشی اتحادسے جوڑاجائے۔مشترکہ بینک یامالیاتی ادارہ قائم کیاجائے جودفاعی منصوبوں کوفنڈکرے۔مقامی کرنسیوں میں لین دین کے نظام کوفروغ دیاجائے تاکہ بیرونی دباؤکم ہو۔لیکن یہاں اس خدشہ کااظہار بھی ضروری ہے کہ اسلامی دنیاکی تاریخ اس بات کی شاہدہے کہ قیادت کاتنازع اکثراتحاد کوپارہ پارہ کردیتاہے۔
حکومتی حمایت یافتہ ترک اداروںبالخصوص سیٹاسے وابستہ ماہرین کے مطابق انقرہ اب غیر فعال پل کے کردارسے نکل کرفعال اتحادوں کی سیاست کی طرف بڑھ رہاہے۔ترکی کا مصر کوفوجی سازوسامان کی برآمداورسعودی عرب کی ممکنہ سرمایہ کاری اس عملی رخ کی علامت اوردفاعی صنعت کے میدان میں عملی پیش رفت ہے۔یہ اقدامات بیانیے کوحقیقت میں ڈھالنے کی کوشش ہیںاگرچہ ابھی منزل دورہے۔اتحادکوعالمی سطح پرجارحانہ بلاک کے طورپرنہیں بلکہ دفاعی و استحکامی فریم ورک کے طور پرپیش کیا جائے۔اقوامِ متحدہ اوردیگرعالمی فورمزپرمشترکہ موقف اختیارکیاجائے۔کسی بھی رکن ملک کے خلاف غیرقانونی اقدام کی صورت میں اجتماعی سفارتی ردِعمل کابھرپورعملی اظہارکیاجائے۔۔
ماضی کے مشترکہ دفاعی معاہدے اکثر کاغذی ثابت ہوئے۔عرب لیگ کے دفاعی معاہدے ہوں یادیگرعلاقائی کوششیںان میں ادارہ جاتی قوت اورسیاسی عزم کی کمی رہی۔سب سے بڑاچیلنج ماضی کے وہ دفاعی معاہدے ہیں جوکبھی عملی شکل اختیارنہ کرسکے۔ بعض اوقات تومعاہدہ کرنے والے ممالک باہم متصادم بھی ہوئے۔یہ تاریخی تجربہ ہرنئے منصوبے کو احتیاط کادرس دیتاہے کہ اتحاد محض اعلامیہ سے نہیں، مستقل اداروں اور مشترکہ کمانڈ اسٹرکچرسے بنتاہے۔یہ تاریخ کابوجھ ہے جوہرنئے خواب کی پیشانی پر سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے ۔مزیدبرآں،امریکاواسرائیل کی ممکنہ مزاحمت، خطے کی داخلی سیاسی تبدیلیاں،اورباہمی بداعتمادی اس راہ کے کانٹے ہیں۔اگراتحادمحض ردِعمل ہوگاتوپائیدارنہ ہوگا؛اسے مثبت ایجنڈا اور اقتصادی ودفاعی انضمام کی بنیاددرکارہوگی جس کیلئے ضروری ہے کہ باہمی تنازعات کے حل کیلئے ثالثی کونسل قائم کی جائے۔فرقہ وارانہ یانظریاتی اختلافات کوسیاسی
حکمت سے سنبھالا جائے۔اتحادکوکسی ایک ملک کی بالادستی سے محفوظ رکھاجائے۔
ترکی،مصراورسعودی عرب کے درمیان بعض علاقائی امورپراختلافات برقرارہیں۔مزیدبرآں امریکااوراسرائیل جیسے طاقتورفریق اس اتحادکواپنے مفادات کے منافی سمجھ سکتے ہیں۔اگربیرونی دباؤبڑھاتوداخلی کمزوریاں آشکارہوسکتی ہیں۔اس لیے اتحادکی کامیابی داخلی ہم آہنگی اورخود انحصاری پرمنحصرہوگی۔عرب یوریشین اسٹڈیزسینٹرکے مطابق سب سے زیادہ قابلِ عمل صورت لچکدار ہم آہنگی ہے یعنی مکمل ادارہ جاتی اتحادکے بجائے موضوعاتی تعاون سے آغازکیاجائے۔ابتدامیں دفاعی صنعت،انٹیلی جنس شیئرنگ،اورسیاسی مشاورت کانظام اورمشترکہ مشقوں تک محدود تعاون رکھاجائے،مگرمکمل عسکری معاہدہ نہیں۔یہ راستہ تدریجی ہیمگرقابلِ عمل بھی ہے۔رفتہ رفتہ اسے جامع دفاعی معاہدے کی شکل دی جائے۔یہ حقیقت پسندی کاراستہ ہے۔کم سے آغاز،تدریج سے ارتقاکاسفرشروع کیاجائے۔ذرائع ابلاغ اورتعلیمی اداروں کے ذریعے اتحادکامثبت بیانیہ تشکیل دیاجائے۔عوام کوباور کرایاجائے کہ یہ اتحادتصادم کیلئینہیں بلکہ امن وسلامتی کیلئے ہے۔
ترکی کامصرکے ساتھ 350ملین ڈالرکادفاعی معاہدہ اورسعودی دلچسپی عسکری تعاون کی عملی جہت اوراس امرکی علامت ہے کہ دفاعی صنعت اتحادکی بنیادبن سکتی ہے۔مشترکہ پیداوار ،ٹیکنالوجی کی منتقلی اوراسلحہ سازی میں اشتراک وہ ستون ہیں جن پرمستقبل کی عمارت کھڑی ہوسکتی ہے۔ممکنہ رکاوٹوں کاواحد حل یہی ہے کہ بیرونی دباؤکامقابلہ داخلی اتحاد سے کیاجائے۔اقتصادی انحصار کم کیاجائے۔شفافیت اوراحتساب کے ذریعے اعتماد سازی کی جائے۔اس معاہدے کے راستے میں جوبنیادی چیلنجزدرپیش ہوں گے ان میں سیاسی عدم استحکام،باہمی بداعتمادی،معاشی کمزوریاں،بیرونی طاقتوں کادباؤکاسامناکرناپڑے گااواگران رکاوٹوں کودورنہ کیاگیاتواتحادمحض بیانیہ رہے گا۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی لابیاں اس اتحاد کوسبوتاژکرنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔اگرایسا ہواتوسفارتی محاذپرشدیدکشمکش متوقع ہے۔اتحادکواپنی قانونی و سفارتی بنیادمضبوط کرناہوگی۔
مستقبل کے منظرنامہ میں سب سے زیادہ ممکنہ صورت یہی دکھائی دیتی ہے کہ مکمل اسلامی نیٹوکی بجائے ایک تدریجی،لچکدار اورکثیرسطحی تعاون کاڈھانچہ ابھرے گا۔اگرقیادتیں اخلاص اوربصیرت کے ساتھ آگے بڑھیں تویہ اتحادمحض دفاعی بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی خوداعتمادی کی علامت بن سکتاہے۔لیکن اگر یہ جذباتی نعروں تک محدودرہاتوتاریخ اسے ایک اورناتمام خواب کے طورپر یادرکھے گی۔
یادرہے کہ اسلامی دفاعی اتحادکاقیام محض عسکری بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی خوداعتمادی کااعلان ہوسکتاہے۔پاکستان کی ایٹمی قوت، ترکی کی دفاعی صنعت،خلیجی ممالک کی مالی طاقت ،مصر کی جغرافیائی اہمیت،اورجنوب مشرقی ایشیاکی صنعتی مہارتیہ سب مل کرایک ایسا توازن قائم کرسکتے ہیں جوخطے کوبیرونی مداخلت سے محفوظ رکھے۔لیکن شرط یہ ہے کہ یہ اتحادردِعمل کی نفسیات سے نکل کرتدبر،تدریج اورتدبیرکی راہ اختیارکرے۔اتحادتوپ وتفنگ کانہیں،ارادوں کی ہم آہنگی کانام ہے۔جب نیتیں صاف،حکمتِ عملی واضح اورقیادت بالغ نظر ہو تومنتشرقوتیں بھی تاریخ کادھاراموڑدیتی ہیں۔
اسلامی نیٹوکاتصوردراصل ایک سوال ہیکیامسلم دنیاتاریخ کے دباکوموقع میں بدل سکتی ہے؟کیا اختلافات کی خاک سے وحدت کی چنگاری پھوٹ سکتی ہے؟اگرقیادتیں اخلاص، بصیرت اورتدبر سے کام لیں تویہ اتحادمحض عسکری بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی احیا کاپیش خیمہ بن سکتاہے۔وگرنہ یہ بھی تاریخ کے اوراق میں ایک خوبصورت مگرناتمام خواب کے طور پر درج ہوجائے گا۔اتحادکی قوت توپ وتفنگ میں نہیں،نیت کی صداقت اورحکمتِ عملی کی پختگی میں ہوتی ہے۔اسلامی عسکری اتحادکاخواب اگرچہ دشوارہے،مگرناممکن نہیں۔جب تک مفادات کی ہم آہنگی اورقیادت کی بالغ نظری نہ ہو،تب تک بڑے سے بڑامعاہدہ بھی محض روشنائی کانقش رہتاہیاورجب ارادے یکسوہوجائیں تومنتشر قوتیں بھی تاریخ کا دھارا موڑدیتی ہیں اوراگریہ عناصرجمع ہوجائیں توبکھری ہوئی ریت بھی سنگِ مرمرکااستعارہ بن جاتی ہے۔
اسلامی ممالک کایہ اتحاد تدبرکی حکمت ہو؛قیادت کاغرورنہیں بلکہ اشتراک کی بصیرت ہو؛اورطاقت کامظاہرہ نہیں بلکہ سلامتی کا عہدہو۔تاریخ نے امتوں کوبارہاموقع دیاہے کہ وہ انتشارسے وحدت کی طرف قدم بڑھائیں۔اسلامی عسکری اتحادکاتصورنہ تومحض خواب ہے اورنہ ہی فوری حقیقت۔یہ ایک ایساراستہ ہے جس کیلئے سیاسی بصیرت،معاشی حکمت، عسکری تیاری اورتہذیبی اعتمادسب درکارہیں۔پاکستان کی ایٹمی بازدارقوت،ترکی کی دفاعی خودکفالت،خلیجی سرمایہ،مصرکی جغرافیائی اہمیت اورجنوب مشرقی ایشیا کی صنعتی مہارت یہ سب عناصراگرایک متوازن اورتدریجی حکمتِ عملی کے تحت یکجاہوں توایک نیاتوازنِ قوت جنم لے سکتاہے۔ مگرشرط یہی ہے کہ اتحادردِعمل کی سیاست اورجذبات کی تپش سے نہیں بلکہ تدبرکی روشنی سے تشکیل پائے۔اگرایساہواتویہ اقدام نہ صرف دفاعی بندوبست ہوگابلکہ تہذیبی وقارکی نئی صبح کاپیامبربھی بن سکتاہے۔اوراگریہ محض نعرہ رہاتوتاریخ اسے ایک ناقابل معافی کے طورپریادرکھے گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا عالمِ اسلام اس بار اس موقع کوپہچان سکے گا؟اگر ہاں،تویہ اتحادمحض عسکری بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی وقار کی نئی صبح ہوسکتاہے۔اگرنہیں،تویہ خواب بھی گزشتہ
خوابوں کی طرح تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہوجائے گاایک حسین مگر ناتمام داستان کے طور پرجس کوہماری آنے والی نسلیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔