حافظ عبدالغفار روپڑی
یہ حقیقت اب کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ امتِ مسلمہ آج جس دوراہے پر کھڑی ہے، وہاں صرف جذباتی نعروں، رسمی اجلاسوں اور ماضی کے فخر سے آگے بڑھ کر فکری بیداری، روحانی ہم آہنگی اور عملی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ قرآن کہتا ہے: "اور تم لوگ ایمان والو! ایک دوسرے کے دشمن نہ بنو بلکہ بھائی بن جاؤ"۔ اتحادِ عالمِ اسلام محض ایک سیاسی نعرہ نہیں، نہ ہی یہ کسی مخصوص دور یا خطے کا خواب ہے بلکہ یہ اسلام کی روح، اس کی اجتماعی فکر اور اس کے تہذیبی مزاج کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اگر اسلام نے ایک طرف فرد کو عبادت کا ذوق دیا تو اس کے ساتھ امت کو اجتماعیت کا شعور بھی عطا کیا ہے۔ نماز فرد کی اصلاح ہے تو جماعت امت کی تشکیل ہے۔ روزہ نفس کی تربیت ہے تو زکوٰ? معاشرتی توازن ہے۔ حج فرد کا روحانی سفر ہے تو عالمِ اسلام کی عظیم اجتماعیت کی علامت بھی ہے۔ گویا اسلام کا ہر حکم ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تنہائی میں کمال نہیں، اجتماع میں بقا ہے۔ نبی کریم ? نے فرمایا: "مؤمن ایک دوسرے کا آئینہ ہے"۔ یعنی جس طرح آئینے میں عکس صاف نظر آتا ہے، اسی طرح مومن ایک دوسرے کے حال سے باخبر اور متحرک رہیں۔
نبی کریم ? نے امتِ مسلمہ کو ایک جسم سے تشبیہ دی ہے۔ جسم کا کوئی ایک عضو بھی درد میں ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ یہ محض ایک تشبیہ نہیں بلکہ امت کے اجتماعی شعور کا نقشہ ہے۔ مگر آج المیہ یہ ہے کہ جسم تو موجود ہے، مگر اعصاب شل ہو چکے ہیں، احساس کی رگیں سو گئی ہیں، اور دل صرف اپنے حصے کے خون پر قانع ہو چکا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: "بے شک ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح قائم کرو"۔
فلسطین کی چیخیں، کشمیر کی آہیں، شام کی ویرانیاں، یمن کے زخم اور افریقہ کے سسکتے بچے یہ سب امت کے جسم کے زخمی اعضا ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ان پر ظلم کیوں ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان کے درد کو اپنا درد کیوں نہیں سمجھ رہے؟
وجہ یہ ہے کہ امت میں اتحاد کا فقدان ہے جو اصل بحران ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ امتِ مسلمہ کو بیرونی سازشوں نے کمزور کر دیامگر سچ یہ ہے کہ بیرونی سازشیں تبھی کامیاب ہوتی ہیں جب اندرونی صفیں منتشر ہوں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد تھے تو تعداد کی کمی کے باوجود غالب رہے اور جب منتشر ہوئے تو کثرت کے باوجود مغلوب ہوگئے۔ فرقہ واریت، لسانی تعصبات، جغرافیائی قوم پرستی اور مسلکی تنگ نظری یہ وہ دراڑیں ہیں جن میں دشمن نے نفرت، اختلاف اور گروہی لسانی مفاد کا بارود بھر دیا ہے جو وقتا فوقتاً رہتا ہے اور امت کے جسم کو زخمی کرتا رہتا ہے۔دکھ اس بات کا ہے کہ آج ہم نے مسلک کو مقصد بنا لیا، قومیت کو شناخت اور اغراض و مفادات کی سیاست کو عبادت، جبکہ اسلام ہمیں مقصدِ واحد، قبلہ? واحد اور ربِ واحد پر جمع کرنے آیا تھا۔
یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ اتحادِ عالمِ اسلام کا مطلب یہ نہیں کہ تمام فقہی آراء ختم ہو جائیں، یا فکری اختلافات مٹ جائیں، یا ثقافتی تنوع کو کچل دیا جائے۔ اس لیے کہ اسلام ہم آہنگی کا دین ہے۔ اختلاف اگر ادب کے دائرے میں ہو تو رحمت بن جاتا ہے، مگر جب اختلاف انا، ضد اور اقتدار کی بھوک سے جڑ جائے تو زحمت اور زہر قاتل بن جاتا ہے۔ اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو دائرہ? اسلام سے خارج نہ کریں، دشمن کے ایجنڈے کا ایندھن نہ بنیں اور مشترکات کو اختلافات پر فوقیت دیں۔ قرآن مجید فرماتا ہے: " ایمان والو! ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور نیک اعمال میں سبقت لے جاؤ، اور اختلاف سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ"۔
یاد رکھیں امت میں اتحاد کا پہلا زینہ فکری اتحاد ہے۔ امت کا اصل بحران سیاسی نہیں، فکری ہے۔ ہم نے سوچنا چھوڑ دیا اور ردِعمل دکھانا اپنا مزاج بنا لیا۔ اسلام نے ہمیں شعور، حکمت اور بصیرت عطا کی تھی مگر ہم نے اسے جذباتی خطابت اور وقتی نعروں میں گم کر دیا۔ فکری اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ ہم: قرآن مجید کو محض تلاوت نہیں بلکہ رہنمائی کا زینہ اور کامیابی کا خزینہ سمجھیں، سیرتِ نبوی ? کو عملی نمونہ مانیں، علم کو مسلکی قلعہ نہیں بلکہ امت کی امانت سمجھیں۔ جب تک فکر ایک نہیں ہوگی، سمت ایک نہیں ہوگی جب سمت ایک نہیں ہوگی تو منزل محض ایک خواب رہ جائے گی۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمِ اسلام آج قیادت کے بحران سے دوچار ہے۔ مگر نبی ? نے فرمایا: "جو شخص امت کے لیے نفع مند ہو، اللہ اس کے ذریعے قوم کو فائدہ پہنچائے گا"۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ قیادت ہمیشہ عوام کے شعور سے جنم لیتی ہے۔ اگر امت خود بیدار ہو جائے تو قیادت خود بخود ابھر آتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس لیڈر نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کردار، بصیرت اور قربانی کا جذبہ رکھنے والی قیادت کم ہوتی جا رہی ہے اس کی ذمہ داری صرف حکمرانوں پر نہیں، علماء ، اہلِ قلم، اساتذہ، میڈیا اور ہر باشعور فرد پر عائد ہوتی ہے۔
اتحادِ عالمِ اسلام کا سفر نعروں سے نہیں، نیت سے شروع ہوتا ہے۔ یہ سفر اس دن آغاز لیتا ہے جب اپنے تمام کلمہ گو بھائیوں کا دل و جان سے احترام کریں اور انہیں عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھیں۔ اختلاف کو مکالمے میں بدلیں، تصادم میں نہیں۔ امت کے اجتماعی مفاد کو ذاتی، جماعتی اور سیاسی مفاد پر ترجیح دیں۔ یہ اتحاد اس وقت مضبوط ہوگا جب مسجد سے گونجنے والی صدا محراب سے نکل کر معاشرے تک جائے گی، جب خطبہ صرف آواز نہیں بلکہ کردار میں ڈھل جائے گااور جب قلم صرف تنقید نہیں بلکہ تعمیر کرے گا۔
مایوسی کے اس اندھیرے میں امید کی ایک روشن کرن نئی نسل ہے۔ اگر اسے تعصب نہیں، شعور دیا جائے؛ اگر اسے نفرت نہیں، مقصد دیا جائے؛ اگر اسے ماضی کی لڑائیاں نہیں، مستقبل کا وڑن دیا جائے—تو یہی نسل امت کو پھر سے جوڑ سکتی ہے۔ سوشل میڈیا اگر نفرت پھیلانے کے بجائے شعور بانٹنے لگے، تعلیمی ادارے اگر فرقہ نہیں بلکہ فکر پیدا کریں، اور گھر اگر تعصب نہیں بلکہ اخوت سکھائیں، تو اتحاد محض خواب نہیں رہے گا، حقیقت بن جائے گا۔
برادران اسلام یاد رکھیں، اتحادِ عالمِ اسلام آج کوئی اختیاری موضوع نہیں، بلکہ امت کی بقا کا سوال بن چکا ہے۔ یاد رکھیں یہ وقت خاموش تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ تاریخ کے دھارے میں اپنا کردار ادا کرنے کا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے دلوں کو نہ جوڑا تو کل ہماری سرحدیں بھی ہمیں نہ بچا سکیں گی۔
آئیے! ہم مسلک کے قلعوں سے نکل کر امت کے آنگن میں آئیں، اختلاف کے کانٹوں پر اخوت کے پھول رکھیں اور دنیا کو ایک بار پھر بتا دیں کہ مسلمان جب ایک ہو جائیں تو تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ یہی اتحادِ عالمِ اسلام ہے۔ یہی وقت کی سب سے بڑی، سب سے سچی، اور سب سے مقدس ضرورت ہے۔
بہ قول شاعر:
"جب امت کے دل اک ہو جائیں، نظریں اک منزل دیکھیں
زمانہ خود سر جھکائے اور تقدیرِ عالم اسلام بدل جائے"