اتحادِ امت کا نیا موڑ

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
 یعنی اختلافات کومنجمدکرکے مشترکہ مفادات کی طرف پیش قدمی گویا حقیقت پسندی جذباتیت پر سبقت لے رہی ہے۔مگربیانیہ اورحقیقت کے درمیان ابھی فاصلہ باقی ہے۔تاہم عرب ذرائع ابلاغ میں زیرِگردش قیاس آرائیاں ابھی ٹھوس شواہدسے محروم ہیںگویاافواہوں کی فصیلیں بلندہیں مگربنیادیں ابھی ڈالی نہیں گئیں۔
بعض عرب رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت نے ترکی اورپاکستان کوشامل کرتے ہوئے کسی باقاعدہاسلامی نیٹومنصوبے کی تردیدکی ہے۔ممکنہ شرکاکے طورپرترکی،مصر،پاکستان اورانڈونیشیاکے نام لیے جارہے ہیں۔یہ ممالک جغرافیائی اعتبارسے تین براعظموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔اگریہ سب ایک دفاعی فریم ورک میں منسلک ہوں تویہ اتحادبحیرہ روم سے بحرالکاہل تک ایک اسٹریٹجک پٹی تشکیل دے سکتاہے۔ 
پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے۔اس کی میزائل ٹیکنالوجی اورعسکری تجربہ اتحاد کواسٹریٹجک گہرائی فراہم کرسکتاہے۔ مگراس کردارکوذمہ داری اورتوازن کے ساتھ نبھانا ہو گا،تاکہ ایٹمی قوت محض بازداررہے،انسدادِ دہشتگردی،میزائل ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ فوجی تربیت میں پاکستان کاتجربہ قیمتی اثاثہ ہے۔ایک مشترکہ نیوکلیئرسیفٹی فورم کے قیام سے سلامتی کے معیارات کوہم آہنگ کیاجاسکتاہے۔اشتعال انگیزنہ بنے لیکن دشمن پراپنی ہیبت طاری کرنے کیلئے ہرقسم کے جدیداسلحہ ومیزائل کے تجربات جاری رہیں۔
ترکی نے ڈرون ٹیکنالوجی،بکتربند گاڑیوں اوربحری دفاعی نظام میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ترکی کودفاعی پیداوارکے میدان میں مشترکہ صنعتی زونز قائم کرنے کی پیشکش کرنی چاہیے۔ٹیکنالوجی کی منتقلی اورمشترکہ تحقیق وترقی"آراینڈڈی"کے منصوبے شروع کیے جائیں۔دفاعی نمائشوں اورمشترکہ مشقوں کیذریعیعملی ہم آہنگی کوفروغ دیاجائے۔ترکی کا تجربہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیاسی عزم اور صنعتی پالیسی مل کر خود کفالت کی راہ ہموارکرتے ہیں۔سرکاری حمایت یافتہ تحقیقی ادارہ سیٹااس فعال حکمتِ عملی کوترکی کے نئے عالمی کردار سے تعبیرکرتاہیایک ایسا کردارجوپل سے بڑھ کرمحور بننے کی خواہش رکھتاہے۔
قطر،متحدہ عرب امارات اوردیگرخلیجی ریاستیں توانائی کی دولت رکھتی ہیں۔ایکاسلامی دفاعی سرمایہ کاری فنڈقائم کیاجائے۔ دفاعی صنعتوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی جائے تاکہ درآمدی انحصارکم ہو۔مصرافریقہ اورعرب دنیاکے سنگم پرواقع ہے۔اپنی بحری اورزمینی فوجی مہارت کومشترکہ مشقوں کے ذریعے بروئے کارلاسکتاہے۔نہرسویزکی اسٹریٹجک اہمیت کے پیشِ نظربحری سلامتی میں مرکزی کرداراداکیاجاسکتاہے۔مصرنہرِسویز کیذریعیعالمی تجارت میں کلیدی حیثیت بھی رکھتاہے۔بحری سلامتی میں قائدانہ کرداراداکیاجا سکتا ہے۔افریقی ممالک کے ساتھ دفاعی ہم آہنگی کوفروغ دیاجاسکتاہے۔
انڈونیشیااورملائشیادفاعی ٹیکنالوجی اوربحری صنعت میں تجربہ رکھتے ہیں۔یہ دونوں ممالک بحری سلامتی اورصنعتی مہارت کے حوالے سے اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔ان کی شمولیت جنوب مشرقی ایشیااتحادکوجغرافیائی وسعت اورعملی توازن دے گی۔جنوب مشرقی ایشیامیں بحری سلامتی کیلئیمشترکہ بیڑہ تشکیل دیاجاسکتاہے۔سائبرسکیورٹی اورالیکٹرانک وارفیئرکے میدان میں تعاون کووسعت دی جائے مگرداخلی سیاسی ترجیحات،معاشی مسائل اورعلاقائی رقابتیں اس خواب کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض سفارتی قربت ہے یاحقیقی عسکری ہم پیمانی کی تمہید؟
روزنامہ ری الیوم کے دعوے کے مطابق ابتداتین ممالک سے ہوسکتی ہے۔یہ حکمت عملی یورپی تجربے سے مماثل ہے جہاں محدود شراکت نے رفتہ رفتہ وسعت اختیارکی۔اگر ترکی، مصراورسعودی عرب ابتدائی فریم ورک تشکیل دیں تووہ دفاعی ہم آہنگی،مشترکہ مشقوں اورانٹیلی جنس تعاون کے ذریعے اعتمادسازی کی فضا قائم کرسکتے ہیںاوریہی اعتماد آئندہ وسعت کاپیش خیمہ ہوگا۔اخبارکا دعوی ہے کہ صدراردوغان کے ریاض وقاہرہ کے دورے ایک ایسے منصوبے کاحصہ ہیں جس کامقصدابتدائی طورپرتین ممالک پر مشتمل اتحادہے، جس میں بعدازاں پاکستان اورانڈونیشیا شامل ہوسکتے ہیں۔اگریہ درست ہے تویہ تدریجی حکمتِ عملی کی علامت ہے پہلے بنیاد،پھرعمارت۔
سعودی عرب،قطر،متحدہ عرب امارات اوردیگرخلیجی ممالک توانائی کی دولت سے مالامال ہیں۔یہ ممالک ایک اسلامی دفاعی سرمایہ کاری فنڈقائم کرسکتے ہیں۔اس فنڈکے ذریعے مشترکہ اسلحہ سازی کارخانوں،ٹیکنالوجی پارکس اورعسکری اکیڈمیوں میں سرمایہ کاری ہو۔دفاعی صنعت کومحض درآمدی انحصارسے نکال کرمقامی پیداوارکی طرف منتقل کیاجائے۔ سرمایہ اگرحکمت کے ساتھ جڑے تو قوتِ بازوکودوام بخشتاہے۔
مشترکہ دفاعی منشورواضح کیاجائے کہ اتحادکامقصددفاع اورعلاقائی استحکام ہے۔بحران کے وقت فوری ردعمل کیلئیمرکزی نظام، یعنی مشترکہ کمانڈاینڈکنٹرول سینٹرقائم کیاجائے جو سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں،فضائی،بحری اورزمینی افواج کی ہم آہنگی کی ذمہ دار ہو۔اسلامی دفاعی یونیورسٹی میں افسران اورسائنس دانوں کی مشترکہ تربیت،دفاعی صنعت میں خود انحصاری،مشترکہ اسلحہ سازی کارخانے اورٹیکنالوجی پارکس کیلئے ہنگامی بنیادوں پرکام شروع کیاجائے۔علاوہ ازیں اقتصادی ومالیاتی تعاون کیلئے مقامی کرنسیوں میں تجارت اور دفاعی منصوبوں کیلئے خصوصی بینک قائم کئے جائیں۔یہ اقدامات تدریجی ہوں مگرمربوطکیونکہ اتحادایک دن میں نہیں بنتا،بلکہ اعتماد کی اینٹوں سے تعمیرہوتاہے۔ان خوابوں کی تعبیرکیلئے عملی اقدامات کرناضروری ہے۔
ترک پریس نے مصر،سعودی عرب اورترکی کے مابین بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کوایک نئے اتحادکی علامت اورعلاقائی اتحادکاپیش خیمہ قراردیا۔تاہم یہ سوال اہم ہے کہ کیایہ محض وقتی مفاہمت ہے یااسٹریٹجک ہم آہنگی؟مصراورترکی کے تعلقات حالیہ برسوں میں کشیدہ رہے؛اگریہ دونوں ممالک اختلافات کوپسِ پشت ڈال کرمشترکہ مفادات پرمتفق ہوتے ہیں تویہ علاقائی سیاست میں بڑی تبدیلی ہوگی۔تاہم بعض مبصرین کے نزدیک یہ اتحادسے زیادہ مفاہمت کی سیاست ہییعنی اختلافات کومنجمد کرکے مشترک مفادات کی طرف پیش قدمی۔ماضی کے کئی دفاعی معاہدے عملی صورت اختیارنہ کرسکے۔عرب دنیاکی داخلی کشمکش اورباہمی بداعتمادی اس کی بڑی وجہ رہی۔ اگریہ اتحادبھی محض اعلامیہ رہاتوانجام مختلف نہ ہوگا۔دوسری جانب امریکااوراسرائیل جیسے طاقتورفریق اس اتحادکواپنے مفادات کے خلاف سمجھ سکتے ہیں۔سفارتی دبا،اقتصادی پابندیاں یاسیاسی مداخلت ممکنہ رکاوٹیں ہیں۔لہذا اتحادکوصرف عسکری نہیں،سفارتی اورمعاشی سطح پربھی مضبوط ہوناہوگا۔
سفارتی وقانونی حکمتِ عملی اتحادکوعالمی برادری کے سامنے ایک دفاعی واستحکامی اقدام کے طورپرپیش کیاجائے۔اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی پاسداری۔مشترکہ سفارتی محاذ تاکہ کسی رکن ملک کے خلاف غیرقانونی اقدام کی صورت میں متحدہ ردعمل دیاجاسکے۔ اتحادکوعالمی سطح پرجارحانہ بلاک کے طورپرنہیں بلکہ دفاعی واستحکامی اقدام کے طورپرپیش کیاجائے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی پاسداری اوربین الاقوامی قانون کااحترام ضروری ہوگا۔ممکن ہے کہ امریکااوراسرائیل جیسے طاقتورفریق اس اتحادکواپنے مفادات کے خلاف سمجھیں۔اس لیے سفارتی محاذپرمضبوط اورمتوازن حکمتِ عملی درکارہوگی۔
عربیک ڈیفنس کے مطابق یہ قربت سیاسی حقیقت پسندی کامظہرہے،یعنی نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ مفادات کی بنیادپرقربت قراردیا ہے۔مگرجامع سٹریٹجک اتحاد کی منزل ابھی دورہے۔مصری اخباریوم7کے ماہرین نے اسے وسیع تراتحادکی بنیادکہا۔گویایہ ایک تدریجی سفراورشجرِاتحادکاپہلابیج ہے پہلے مفاہمت،پھرتعاون،اوربالآخراتحادپرمنتج ہوگا۔ ماہرین کے مطابق مکمل ادارہ جاتی اتحاد فوری ممکن نہیں۔داخلی سیاسی عدم استحکام،وسائل کی غیرمساوی تقسیم،بیرونی دبااورپابندیاں،ان رکاوٹوں کاحل شفافیت،تدریج اور مستقل مزاج قیادت میں ہے۔لچکدارہم آہنگیزیادہ حقیقت پسندانہ راستہ ہے یعنی مشترکہ مشقیں،انٹیلی جنس تعاون،اوردفاعی صنعت میں شراکت۔ یہ ماڈل رفتہ رفتہ جامع معاہدے کی شکل اختیارکرسکتاہے۔تاہم اس معاہدے کے راستے میں چیلنجزاوررکاوٹیں بھی موجودہیں۔یعنی باہمی بداعتمادی اورتاریخی اختلافات،بیرونی دباؤاور اقتصادی پابندیاں،داخلی سیاسی عدم استحکام،وسائل کی غیرمساوی تقسیم،ان رکاوٹوں کاحل شفافیت،تدریج اورمستقل مزاج قیادت میں مضمرہے۔
اسرائیل اورایران کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے بعد عرب میڈیامیں تحادکی بحث کومہمیزدی ہے۔ اسے جہاں ناگزیرقراردیاہے وہاں الجزیرہ مباشرپراس موضوع کوخطے کی بقاسے جوڑاگیا ہے۔سابق سفارتکاروں نے اسے تاریخ کاممکنہ موڑکہاایک ایساموڑ جہاں سے یاتوخوداعتمادی کاسفرشروع ہوگایا انتشارکی پرانی راہیں دوبارہ کھلیں گی۔یہ تصوراب صرف نظری نہیں بلکہ سلامتی کی حکمتِ عملی کے طورپرزیرِ بحث ہے۔
مشترکہ عسکری کمانڈاورتربیت پرزوردیتے ہوئے تجویزکیاگیاکہ ایک اسلامی مشترکہ کمانڈسینٹرقائم کیاجائے۔سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں ہوں،جن میں فضائی،بحری اورزمینی افواج شامل ہوں۔ایک متحدہ عسکری اکیڈمی یااسٹاف کالج قائم کیاجائے جہاں افسران مشترکہ تربیت حاصل کریں۔ فوری طورپرمکمل ادارہ جاتی اتحادممکن نہیں۔ابتدامشترکہ مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون سے کی جائے۔رفتہ رفتہ جامع دفاعی معاہدے کی شکل دی جائے۔یہی تدریجی حکمت عملی پائیدارنتائج دے سکتی ہے۔یہ اتحادمحض توپ وتفنگ کابندوبست نہ ہو،بلکہ تہذیبی خوداعتمادی کااظہارہو۔اگراس کے پس منظرمیں انصاف،استحکام اورباہمی احترام کااصول ہوتویہ عالمِ اسلام کیلئیاحیائے نوکی تمہیدبن سکتاہے۔ورنہ یہ بھی ایک سیاسی نعرہ رہ جائے گاجووقتی جذبات کوتو گرمادے گا،مگرتاریخ کے صحیفے میں محض ایک حاشیہ بن کررہ جائے گا۔اسلامی عسکری اتحاداگرمحض توپ وتفنگ کابندوبست رہاتواس کی عمر مختصر ہوگی۔اسے تہذیبی خوداعتمادی،باہمی احترام اورعدل کے اصول پرقائم ہوناہوگا۔اتحادکامقصدکسی قوم یاریاست پرغلبہ نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی اوروقارکاتحفظ ہونا چاہیے۔
(جاری ہے)