پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ "ہم صرف کہتے ہیں بانیٔ کو رہا کیا جائے، فیصلے میرٹ پر کیے جائیں، اپنا مقدمہ عوام میں لے کر جا رہے ہیں اور آئین و قانون کے مطابق تحریک چلائیں گے۔"
وزیراعظم کی تقریر پر سخت ردعمل
اسد قیصر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پشاور میں جرگے سے خطاب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "40 سال سے دہشتگردی سے متاثرہ خیبر پختونخوا کو احسان جتا کر دیکھایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم بتائیں کہ سالانہ ترقیاتی بجٹ میں صوبے کے لیے کتنی اسکیمیں شامل کی گئیں؟"انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے فاٹا انضمام کے بعد خیبر پختونخوا کو 1000 ارب روپے دینے تھے، لیکن وہ اب تک نہیں دیے گئے۔ بجلی کے خالص منافع، این ایف سی ایوارڈ اور دیگر آئینی حقوق بھی صوبے کو نہیں ملے۔
"وزیراعظم کو احساس ہی نہیں"
اسد قیصر نے مزید کہا کہ "وزیراعظم کو احساس ہونا چاہیے کہ یہاں کے لوگوں نے دہشتگردی کے خلاف کتنی قربانیاں دیں، لوگ بےگھر ہوئے، اور آج ہمیں احسان جتایا جا رہا ہے۔"
افغانستان اور وسطی ایشیاء کے ساتھ تجارت
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان اور وسطی ایشیاء کے ساتھ تجارت کو بند کر دیا گیا ہے، جس سے خیبر پختونخوا کا معیشتی نقصان ہو رہا ہے۔ "کیا ہمارے ساتھ یہ سلوک درست ہے؟" انہوں نے سوال اٹھایا۔
عدالتی کارروائی
قبل ازیں پشاور ہائی کورٹ میں اسد قیصر کی مقدمات کی تفصیلات کے حصول کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے اسد قیصر کو حفاظتی ضمانت دے دی اور وفاقی حکومت کو دس روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ جسٹس سید ارشد علی نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اب تک رپورٹ جمع نہیں ہوئی؟ جس پر جواب دیا گیا کہ آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرائی جائے گی۔
سیاسی تنقید
اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ "17 سیٹوں والے کو وزیراعظم بنایا گیا ہے، جبکہ 27ویں آئینی ترمیم لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ججز کے تبادلے ممکن بنائے جا سکیں۔"