سابق صدر پرویز مشرف بھارت میں آبائی اراضی و جائیداد نیلام

 آبائی زمین نئے خریداروں کے نام رجسٹرڈ ،جائیداد وزیراعلیٰ کے احکامات پر نیلام کی گئی
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی بھارتی ریاست اترپردیش میں واقع کوٹانا ویلج میں موجود آبائی اراضی اور جائیداد حکومتی سرپرستی میں نیلام کردی گئی اور باقاعدہ خریداری کے بعد نئے  مالکوں کے نام رجسٹرڈ بھی کردی گئی۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف اور ان کے خاندان کے نام آبائی زرعی اراضی اور جائیداد نیلامی کے بعد دوسرے کے نام رجسٹر کرکے حکومتی ریکارڈز سے مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے ضلع باغ پت کی تحصیل براوٹ کے گاؤں کوٹانا میں جنرل (ر) پرویز مشرف اور ان کے خاندان کے افراد کے نام پر 13 بیگھے زرعی اراضی نیلامی کے بعد نئی خریداروں کے نام رجسٹر کردی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ کوٹانا میں 13 بیگھ اراضی سابق صدر پرویز مشرف کے بھائی ڈاکٹر جاوید مشرف اور خاندان کے نام رجسٹرڈ تھی تاہم ان کی پاکستان ہجرت کے بعد مذکورہ اراضی اور جائیداد کو دشمن جائیداد قرار دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیاناتھ نے اپنے اختیارات کا استعمال کیا اور جنرل (ر) پرویز مشرف اور ان کے خاندان کی دشمن قرار دی گئی جائیداد نیلام کردی اور اس نیلامی کی نگرانی لکھنو میں کسٹودین آفس نے کی۔سابق صدر کی جائیداد باراوت شہر سے تعلق رکھنے والے پنکج اور منوج گویال نے غازی آباد کے جے کے سٹیل کے ساتھ مشترکہ طور پر 1.38 کروڑ بھارتی روپے میں خریدی۔