جنوبی یمن میں طاقت کا نیا کھیل

شہزاد  راجپوت
یمن کی خانہ جنگی ایک بار پھر نئے اور حیران کن موڑ میں داخل ہو گئی ہے۔ سعودی افواج نے جنوبی یمن میں عرب امارات کے ایک خفیہ ملٹری کیمپ پر قبضہ کرتے ہوئے وہاں موجود بھاری اسلحہ اپنی تحویل میں لے لیاجبکہ عرب امارات کے فوجی اہلکار اور جنوبی عبوری کونسل (STC) کے جنگجو موقع سے فرار ہو گئے۔اس واقعہ کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا‘بعدازاں یو اے ای نے یمن میں اپنے تمام فوجی آپریشن بند کردیئے اور اپنے فوجی واپس بلا لئے‘ یہ واقعہ نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ عرب اتحاد کی اندرونی صف بندی پر بھی کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔یمن کے بحران کو برسوں سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ عسکری مداخلت کا نتیجہ قرار دیا جاتا رہا ہے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔ جنوبی یمن میں اثر و رسوخ کی جنگ اب اس حد تک آگے بڑھ چکی ہے کہ اتحادی ممالک ایک دوسرے کے خفیہ عسکری ٹھکانوں پر قبضہ کرنے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ یمن محض حوثی باغیوں کے خلاف جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اتحادی قوتوں کے باہمی مفادات کی آماجگاہ بن چکا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق عرب امارات طویل عرصے سے جنوبی یمن میں علیحدگی پسند STC کی پشت پناہی کرتا آ رہا ہے جبکہ سعودی عرب بظاہر یمن کی وحدت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا دعوے دار ہے۔ ایسے میں امارات کے خفیہ ملٹری کیمپ کا انکشاف اور اس پر سعودی افواج کا کنٹرول حاصل کرنا دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کھل کر سامنے لے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ کیمپ میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور عسکری سازوسامان موجود تھا۔ جس سے جنوبی یمن میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو سکتا تھا۔ STC کے جنگجوؤں اور اماراتی فوجیوں کا بغیر کسی مزاحمت کے فرار ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یا تو انہیں پہلے سے اس کارروائی کا علم تھا یا پھر معاملہ کسی خاموش مفاہمت کا نتیجہ ہے۔یمن پہلے ہی انسانی المیے کی بدترین مثال بن چکا ہے جہاں لاکھوں افراد قحط، بیماری اور بے گھری کا شکار ہیں۔ ایسے میں اتحادی قوتوں کی باہمی چپقلش نے بحران کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر یمن میں مداخلت کا مقصد امن اور استحکام تھا تو پھر خفیہ کیمپ، متوازی ملیشیائیں اور اندرونی محاذ آرائی کس ایجنڈے کا حصہ ہیں؟ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی یمن میں پیش آنے والا یہ واقعہ عرب اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی دراڑ اور خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی و عسکری توازن کا واضح اشارہ ہے۔ اگر سعودی عرب اور عرب امارات اپنے اختلافات کو کھل کر حل نہ کر سکے تو یمن کا بحران مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتا ہے۔ جس کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو جنم دیں گے۔