بسنت 2026: ثقافتی میلہ یا سیاسی دنگل؟

 یاور مہدی 
نئے سال کا سورج طلوع ہوتے ہی لاہور کے در و دیوار پر ایک عجیب سی بے چینی اور جوش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہر کی بیٹھکوں، چائے خانوں اور سوشل میڈیا کے حلقوں میں ایک ہی تذکرہ ہے: فروری 2026 کی بسنت۔ تقریباً 20 سال کے بن باس کے بعد پتنگ بازی کی واپسی محض ایک کھیل کی بحالی نہیں، بلکہ ایک ایسی سماجی و سیاسی بساط ہے جس پر ڈور کی ہر کھینچ ایک نیا رخ متعین کرے گی۔ مقتدر حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ فضاؤں میں ہونے والا یہ "بو کاٹا" کہیں پی ٹی آئی اور عمران خان کے حق میں ایک نیا سیاسی بیانیہ نہ بن جائے۔
وزیر اعلیٰ کا وڑن اور مریم-عظمیٰ جوڑی کا مشن:
وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے اس میلے کو ایک بڑے چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے۔ ان کی ٹیم کی دو اہم ستون، سینئر منسٹر مریم اورنگزیب اور منسٹر انفارمیشن عظمیٰ بخاری، اسے پاکستان کے "سافٹ امیج" کی بحالی کا ذریعہ بنانا چاہتی ہیں۔ مریم اورنگزیب کا وڑن ماحولیات اور سیاحت کو یکجا کرنا ہے، جبکہ عظمیٰ بخاری اس ایونٹ کو عالمی میڈیا کی زینت بنا کر یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ پنجاب اب بدل چکا ہے۔
انتظامیہ کا 'سپر پیکیج': مفت ٹرانسپورٹ اور وی آئی پی سہولیات:
حکومتِ پنجاب نے اس بار بسنت کو صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک 'اسٹیٹ فیسٹیول' کا درجہ دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے شہریوں اور سیاحوں کے لیے درج ذیل تاریخی سہولیات کا اعلان کیا ہے:
مفت شٹل سروس: میلے کے تینوں دن (6 سے 8 فروری) لاہور کی تمام بڑی شاہراہوں پر میٹروبس، اورنج لائن ٹرین اور سرکاری فیڈر بسیں عوام کے لیے مکمل مفت ہوں گی۔ یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ موٹر سائیکلوں کا استعمال کم سے کم ہو اور لوگ ڈور کے خطرے سے محفوظ رہیں۔
مفت رکشہ سروس: اندرونِ شہر کی تنگ گلیوں میں سیاحوں کی سہولت کے لیے مخصوص 'بسنت شٹل رکشہ' سروس شروع کی جا رہی ہے جو بغیر کسی معاوضے کے مہمانوں کو تاریخی مقامات تک پہنچائے گی۔
سیاحتی مراکز (Tourist Hubs): ایئرپورٹ اور ریلوے اسٹیشن پر خصوصی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں جہاں اورسیز پاکستانیوں اور غیر ملکی مہمانوں کو نقشے، سیفٹی وائرز اور بسنت گائیڈز مفت فراہم کی جائیں گی۔
سیفٹی فرسٹ: "محفوظ لاہور، مسکراتا لاہور"
ڈپٹی کمشنر لاہور نے ضوابط کی زنجیریں بہت سخت رکھی ہیں تاکہ ماضی کے تلخ تجربات نہ دہرائے جائیں:
سیفٹی وائرز کی تقسیم: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں کو ہزاروں کی تعداد میں 'پروٹیکٹو وائرز' مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

ڈیجیٹل مانیٹرنگ: e-biz ایپ کے بغیر پتنگ کی فروخت ناممکن ہوگی۔ صرف منظور شدہ نو تاری سوتی ڈور کی اجازت ہوگی، جبکہ خونی ڈور استعمال کرنے والوں کے لیے جیل کی سلاخیں تیار ہیں۔
تاریخی تناظر اور سیاسی "بو کاٹا"
200 قبل مسیح میں جب سپہ سالار ہان سینگ نے پہلی پتنگ اڑائی تھی، تو اسے معلوم نہ تھا کہ یہ فن ایک دن لاہور میں سیاسی طاقت کا استعارہ بن جائے گا۔ آج جہاں انتظامیہ نے اربوں روپے کی سہولیات فراہم کی ہیں، وہاں یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر فضاؤں میں اپوزیشن کے رنگ نمایاں ہوئے تو حکومت کی تمام تر برانڈنگ اور یہ عالیشان سہولیات "نہاتی دھوتی رہ جائیں گی"۔ لاہوریوں کا روایتی مزاج ہمیشہ غیر متوقع رہا ہے اور یہی اس بسنت کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔
عالمی دعوت
ہم پوری دنیا میں مقیم پاکستانیوں اور بین الاقوامی سیاحوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ لاہور کے اس تاریخی موڑ کا گواہ بنیں۔ آئیں، مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت کا فائدہ اٹھائیں، لاہوری کھانوں کا لطف لیں اور آسمان پر امکانات کی ڈور تھامیں۔
آنے والے فروری میں لاہور کا آسمان صرف پتنگوں سے نہیں، بلکہ امیدوں سے بھرا ہوگا۔ کیا یہ میلہ امن کا پیغام بنے گا یا سیاسی طاقت کا اظہار؟ جواب صرف ایک ہے: "دل ہوا بو کاٹا!"