تاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تک

احمدخان اچکزئی 
محترم قارئین، تاریخ کبھی مرتی نہیں، وہ صرف لباس بدل کر واپس آتی ہے۔ جو کچھ آج بلوچستان کی شاہراہوں پر ہو رہا ہے، جو کچھ کل خیبرپختونخوا کے پہاڑوں میں ہوا، وہی کچھ کل افغانستان کے بازاروں، مسجدوں اور اسکولوں میں ہو چکا ہے۔ فرق صرف ناموں کا ہے، کردار وہی ہیں، مقصد وہی ہے، اور نتیجہ بھی وہی نکل رہا ہے: ریاست کو اندر سے کھوکھلا کرنا، عوام کو خوفزدہ کرنا، نوجوان کو مایوس کرنا، اور پھر بڑے عالمی منصوبوں کو ناکام بنانا۔ اگر آپ اس تسلسل کو نہیں سمجھیں گے تو آپ آج کی ہر خبر کو ایک الگ حادثہ سمجھیں گے، حالانکہ یہ حادثے نہیں ہیں، یہ ایک طویل، سوچی سمجھی اور پروف شدہ تاریخی سازش کی کڑیاں ہیں۔افغانستان کی تباہی کا آغاز اپریل 1978 کے ثور انقلاب سے ہوا جب سردار محمد داؤد خان کو ان کے اہل خانہ سمیت قتل کر دیا گیا اور خلق و پرچم کی خونریز کشمکش نے پورے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔ دسمبر 1979 میں سوویت یونین کی فوج افغانستان میں داخل ہوئی تو یہ جنگ عالمی جنگ بن گئی۔ امریکہ، پاکستان، سعودی عرب اور مغربی طاقتوں نے پاکستان میں سات بڑی مجاہد تنظیموں کو منظم کیا، اسلحہ دیا، پیسہ دیا اور تربیت دی۔ بظاہر مقصد سوویت قبضے کو روکنا تھا، لیکن اندرونی حقیقت یہ تھی کہ ان سات تنظیموں کے درمیان پہلے دن سے لسانی، مسلکی اور تنظیمی نفرت موجود تھی۔ اس تقسیم کو جان بوجھ کر زندہ رکھا گیا تاکہ جنگ کے بعد کوئی ایک مضبوط، متحد اور خودمختار افغان ریاست نہ بن سکے۔ 1989 میں سوویت فوج نکلی تو افغانستان آزاد نہیں ہوا، بلکہ ایک نئی، زیادہ خوفناک جنگ میں داخل ہو گیا۔ 1992 میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت گری تو کابل میں مجاہدین گروہوں نے ایک دوسرے کے خلاف توپیں چلانی شروع کر دیں۔ شہر کا 70 فیصد حصہ تباہ ہوا، ہزاروں شہری مارے گئے، سڑکیں چیک پوسٹوں، لوٹ مار، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کا مرکز بن گئیں۔ عام افغان شہری نے اس وقت یہ نہیں پوچھا کہ کون حق پر ہے، اس نے صرف یہ پوچھا کہ مجھے امن کون دے گا؟ یہی وہ مجبوری تھی جس نے 1994 میں قندھار سے اٹھنے والی طالبان تحریک کو قبولیت دی۔ 1995 میں ہرات، 1996 میں کابل فتح ہوا تو عوام نے نظریے کی وجہ سے نہیں، بلکہ تھکاوٹ، خوف اور امن کی پیاس کی وجہ سے اس کا ساتھ دیا۔ تاریخ کا سب سے تلخ سچ یہی ہے کہ جب ریاست امن نہیں دیتی تو عوام مجبوری میں کسی بھی متبادل کو قبول کر لیتا ہے، چاہے وہ متبادل کل کو خود ایک نیا عذاب بن جائے۔یہی فارمولا 2006 کے بعد خیبرپختونخوا میں دہرایا گیا۔ 2001 کے بعد افغانستان کی جنگ کا بوجھ، نقل مکانی، ڈرون حملے، عسکریت پسندی اور معاشی تباہی سب سے پہلے فاٹا اور پھر سوات، وزیرستان، باجوڑ اور پشاور تک پہنچی۔ سڑکوں پر گاڑیاں جلنا، اسکول جلنا، بازار بند ہونا اور ٹارگٹ کلنگ کا مطلب صرف دہشت گردی نہیں تھا، اس کا اصل مقصد آبادی کو شاہراہوں، تجارتی راستوں اور ریاستی اداروں سے دور کرنا تھا۔ جب کاروبار بند ہو، اسکول بند ہو، نوجوان کے پاس روزگار نہ ہو تو وہ آسانی سے بندوق، نشے یا انتہا پسندی کی طرف جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کی بدقسمتی یہ رہی کہ وہاں تعلیم کی کمی، روزگار کی کمی اور سیاسی قیادت کی تقسیم نے اس سازش کو آسان بنا دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی سمیت پشتون قوم پرست جماعتیں ایک متحد معاشی و تعلیمی ایجنڈے پر متفق نہ ہو سکیں، اور اس خلا میں عسکریت پسندوں اور بیرونی مفادات نے جگہ بنا لی۔ فاٹا کے عوام کی جنگی روایت کو اسی طرح استعمال کیا گیا جیسے 1980 کی دہائی میں مجاہدین کو استعمال کیا گیا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس بار دشمن باہر نہیں، اندر تھا۔اب یہی تاریخ 2016 کے بعد ڑوب اور لورالائی کے راستے بلوچستان میں داخل ہوئی اور آج جنگل، سرانان، قلعہ عبداللہ، چمن اور کوئٹہ کے اطراف کی مین شاہراہوں پر دھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ لیکن بلوچستان کا معاملہ افغانستان سے زیادہ پیچیدہ اور زیادہ خطرناک ہے۔ یہاں دو سازشیں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ پہلی وہی افغان طرز کی سازش ہے: سڑک غیر محفوظ کرو، ٹارگٹ کلنگ کرو، خوف پھیلاؤ، تاکہ عوام شاہراہ سے دور ہو جائے اور ریاست کمزور لگے۔ دوسری سازش سی پیک کو ناکام بنانا ہے۔ سی پیک صرف ایک سڑک نہیں، یہ چین کو گوادر کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی دینے والا منصوبہ ہے، یہ پاکستان کی معیشت کو بدلنے والا منصوبہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ، بھارت اور دیگر علاقائی طاقتیں اسے اپنے عالمی مفادات کے خلاف سمجھتی ہیں۔ وہ براہ راست چین سے نہیں لڑ سکتیں، اس لیے وہ بلوچستان میں بدامنی کے ذریعے سرمایہ کار کو ڈراتی ہیں۔ جب سرمایہ کار کو لگے گا کہ کوئٹہ سے گوادر تک کا راستہ محفوظ نہیں، تو وہ اپنا پیسہ واپس لے جائے گا، اور یہی ان کا اصل مقصد ہے۔ اسی لیے آج بلوچستان میں ہر ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے صرف ایک شخص نہیں، بلکہ ایک پورا عالمی کھیل ہے۔بلوچستان میں ایک تیسرا پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، وہ ہے بلوچ قوم کا تاریخی مسئلہ۔ بگٹی، مری اور دیگر بلوچ اقوام کی مزاحمت 70 سال پرانی نہیں، بلکہ برطانوی دور سے چلی آ رہی ہے۔ انگریز کے خلاف بھی بلوچ قبائل نے مزاحمت کی تھی، اور پاکستان بننے کے بعد بھی انہوں نے اپنے وسائل، شناخت اور حقوق کے سوال پر مزاحمت جاری رکھی۔ آج بلوچ نوجوان پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہے، اس لیے وہ سوال پوچھتا ہے، اور جب اسے جواب نہیں ملتا تو وہ غصے کی طرف جاتا ہے۔ اس غصے کو بھی بیرونی طاقتیں استعمال کر رہی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں افغان ماڈل اور بلوچ ماڈل ملتے ہیں: ریاست جب انصاف، تعلیم اور روزگار نہیں دیتی تو نوجوان کا غصہ خودبخود سازش کا ایندھن بن جاتا ہے۔پشتون سیاست کا سوال بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ عبدالصمد خان عرف اچکزئی سے لے کر محمود خان عرف اچکزئی تک پشتون قیادت پر ہمیشہ دو متضاد آراء￿  رہی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ انہوں نے پشتون حقوق، جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے لیے آواز اٹھائی۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ان کی سیاست نے ون یونٹ کی مخالفت، بلوچوں سے تصادم اور پشتونوں کے اندر تقسیم کو ہوا دی، جس سے پشتون ایک متحد تعلیمی و معاشی قوت نہ بن سکے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ پشتون قیادت آج تک ایک مشترکہ، غیر جذباتی اور ترقیاتی ایجنڈے پر متحد نہیں ہو سکی، اور اس تقسیم کا فائدہ ہمیشہ ان طاقتوں کو ہوا جو پشتونوں کو متحد نہیں دیکھنا چاہتیں۔ اسی طرح کراچی میں ماضی میں ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں آگے لانے کا تجربہ بھی اسی سیاسی انجینئرنگ کی مثال ہے، جس کا نتیجہ بعد میں خود ریاست کے لیے درد سر بن گیا۔ تاریخ کا اصول ہے کہ وقتی مفاد کے لیے بنایا گیا گروہ کل کو قابو سے باہر ہو جاتا ہے، جیسے 1980 کی دہائی کے مجاہدین بعد میں قابو سے باہر ہو گئے تھے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ جواب تلخ لیکن سچا ہے: جب تک ریاست اس کھیل کو نہیں سمجھے گی، یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ 
افغانستان میں یہ کھیل 1978 سے 1996 تک 18 سال چلا، خیبرپختونخوا میں 2006 سے 2026 تک 20 سال ہو گئے، اور بلوچستان میں 2016 سے شروع ہو کر اب اپنے عروج پر ہے۔ اس کا علاج صرف فوجی آپریشن نہیں، نہ صرف چھاپے ہیں۔ اس کا علاج تین چیزوں میں ہے: پہلا، شاہراہوں اور اسکولوں کو محفوظ بنانا تاکہ عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو۔ دوسرا، بلوچ اور پشتون نوجوان کو تعلیم، روزگار اور عزت دینا تاکہ وہ سازش کا ایندھن نہ بنے۔ تیسرا، سی پیک جیسے منصوبوں کو مقامی عوام کی شراکت سے چلانا تاکہ عوام خود اس کی حفاظت کرے۔ اگر یہ تین کام نہ ہوئے تو تاریخ ایک بار پھر دہرائے گی، اور اس بار قیمت افغانستان سے بھی زیادہ ہو گی، کیونکہ اس بار ہدف صرف کابل نہیں، بلکہ کوئٹہ، پشاور اور گوادر ہے۔آخر میں ایک ہی سچ باقی رہتا ہے: ماضی میں سازش کرنے والے وہی تھے جو آج سازش کر رہے ہیں، صرف ان کے چہرے بدلے ہیں۔ کل برطانیہ اور روس تھے، پھر امریکہ اور سوویت یونین تھے، آج امریکہ، بھارت اور ان کے مقامی سہولت کار ہیں۔ کل ہتھیار ہیروئن تھی، آج ہتھیار آئس، ٹارگٹ کلنگ اور سوشل میڈیا کا زہر ہے۔ کل میدان افغانستان تھا، آج میدان بلوچستان ہے۔ جو قوم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتی، تاریخ اسے سبق بنا دیتی ہے