بسنت کے موقع پر مذہبی ہم آہنگی، امنِ عامہ اور شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ داخلہ نے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے متعدد پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
نوٹی فکیشن کے مطابق پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی مذہبی یا سیاسی شخصیت کی تصاویر لگانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اسی طرح کسی بھی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگیں بھی نہ تیار کی جا سکیں گی اور نہ ہی اڑانے کی اجازت ہوگی۔ مذہبی یا سیاسی نوعیت کے نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال کو خلافِ قانون قرار دیا گیا ہے۔محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ شہری صرف بغیر تصویر، سادہ یک رنگی یا کثیر رنگی گڈّا اور پتنگ استعمال کر سکیں گے۔ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے ادارے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں گے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق دھاتی تار، کیمیکل یا نائلون ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جبکہ لاہور میں بسنت کے دوران موٹر سائیکل سواروں کے لیے سیفٹی راڈ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہوائی فائرنگ اور اسلحے کی نمائش پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بسنت کو محفوظ، پرامن اور قانون کے دائرے میں منانا ہے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور تمام شہری خوشگوار ماحول میں تہوار سے لطف اندوز ہو سکیں۔