بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن ردالفتنہ ون کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضانقوی نے فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور کارکردگی کو سراہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران 216 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جن میں بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے وہ عناصر شامل تھے جو خواتین، بچوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا کر صوبے میں امن و ترقی کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے۔صدر مملکت نے فورسز کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیابی قومی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ وزیراعظم نے فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا کہ بدامنی پھیلانے کی سازش ناکام بنا دی گئی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے دہشت گردوں کے انجام کو عبرتناک قرار دیا۔
آپریشن کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور کومبنگ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے سلیپر سیلز اور کمانڈ نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا، جبکہ غیر ملکی ساختہ اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ اس دوران 36 معصوم شہری شہید اور 22 سکیورٹی جوان جان کی قربانی پیش کر چکے ہیں۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے، اور یہ آپریشن بلوچستان اور پاکستان کی عوام کے امن، اتحاد اور ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔