امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تاریخ میں پہلی بار 300 سے زائد صحافیوں اور عملے کے ارکان کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے، جو کہ ایڈیٹوریل اسٹاف کا ایک تہائی سے زائد بنتے ہیں۔
اس اقدام کو نہ صرف اخبار بلکہ عالمی صحافت کے لیے بھی ایک تاریک دن قرار دیا جا رہا ہے۔فارغ کیے جانے والے صحافیوں میں زیادہ تر بین الاقوامی بیوروز، مقامی رپورٹرز، کھیل اور کاروباری رپورٹس سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹرز اور ایڈیٹرز نے اس اقدام پر سوشل میڈیا پر صدمہ اور دکھ کا اظہار کیا۔
اہم متاثرہ صحافی:
ایشان تھرور، سینئر انٹرنیشنل افیئرز کالم نگار، جو معروف بھارتی مصنف ششی تھرور کے بیٹے ہیں۔
لیزی جانسن، یوکرین رپورٹر، جنہیں جنگ زدہ علاقے میں کام کے دوران فارغ کیا گیا۔
پرانشو ورما، نیو دہلی کے بیورو چیف، جنہوں نے مایوسی کا اظہار کیا۔
سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹی بارون نے اس کٹوتی کو "دنیا کے عظیم ترین نیوز اداروں کی تاریخ کے سب سے تاریک دنوں میں سے ایک" قرار دیا۔ انہوں نے اخبار کے مالک جیف بیزوس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے قارئین کا اعتماد کمزور ہوا اور برانڈ کی شہرت متاثر ہوئی۔فارغ کیے جانے والے زیادہ تر صحافی بین الاقوامی رپورٹس کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے، جو واشنگٹن پوسٹ کی عالمی شہرت یافتہ کوریج کا ستون رہے ہیں۔ اس اقدام نے عالمی صحافت میں زمین پر موجود رپورٹرز کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ایشان تھرور نے کہا کہ انہوں نے 2017 میں ورلڈ ویو کالم شروع کیا تاکہ قارئین کو دنیا اور امریکا کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے۔ دیگر فارغ کیے گئے صحافیوں نے بھی اپنے تجربات اور ساتھیوں کے لیے شکرگزاری اور افسوس کا اظہار کیا۔