اگر بچے اسکول نہیں جارہے تو مستقبل تاریک ہو جائے گا

اگر بچے اسکول نہیں جارہے تو مستقبل تاریک ہو جائے گا

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 25 ویں آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت اختیار کی ہے، مگر ماضی میں کئی آئی ایم ایف پروگرامز میں اہم اصلاحات نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے مسائل بدستور موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں مہنگائی میں کمی آنا شروع ہو چکی ہے اور حکومت عوام کو اس کے فوائد پہنچانا چاہتی ہے۔ اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی آتی ہے تو پاکستان میں بھی قیمتوں میں کمی ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دال اور مرغی کے نرخوں کا جائزہ لیا ہے اور قیمتوں میں کمی لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت سے تمام مسائل حل نہیں ہو جائیں گے، بلکہ اس پروگرام کے اہداف حاصل کرنے کے لیے معاشی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے نجکاری اور رائٹ سائزنگ کے حوالے سے جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں، ان کو پورا کرنا ہوگا۔

عالمی بینک کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک 10 سالہ پروگرام لانے کی خبر دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی کمزوریوں اور نقائص کو دور کرنے میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی آبادی کے بوجھ کو بھی معاشی حکمت عملی کی ناکامی کی وجہ قرار دیا، اور کہا کہ اگر بچے غذائیت کی کمی یا تعلیمی عدم تحفظ کا شکار ہیں تو ملک کی معاشی ترقی مستحکم نہیں ہو سکتی۔محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا مستقبل بچوں کی تعلیم اور غذائی تحفظ پر منحصر ہے، اور اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو ملک کا اقتصادی مستقبل غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔