حکومت پاکستان کا بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے 10 لاکھ روپے تک قرض دینے کا فیصلہ

حکومت پاکستان کا بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے 10 لاکھ روپے تک قرض دینے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے "وزیرِاعظم یوتھ لون پروگرام" کے تحت بیرون ملک ملازمت کے متلاشی پاکستانی شہریوں کو 10 لاکھ روپے تک کا قرض فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قرض کا مقصد اور شرائط
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق یہ قرضہ ان افراد کو دیا جائے گا جو:بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند ہیں۔ان کے پاس کسی غیرملکی کمپنی کی طرف سے تصدیق شدہ نوکری کا آفر لیٹر موجود ہو۔وہ وضاحت کر سکیں کہ یہ رقم کن مقاصد کے لیے استعمال ہو گی۔
قرض کی مدت اور سود کی شرح
قرض 5 سال کے عرصے میں واپس کرنا ہو گا۔اس پر رائج الوقت شرحِ سود سے 3 فیصد زائد شرح لاگو ہو گی۔
ضمانت اور درخواست گزار کی شرائط
قرض درخواست گزار اور پاکستان میں موجود کسی قریبی رشتہ دار کے نام پر مشترکہ طور پر جاری ہو گا۔اس کا مطلب ہے کہ بیرون ملک جانے والے شخص کے خاندان کے کسی فرد کو ضامن بننا ہو گا۔
بینکوں کی دستیابی
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے بینک یہ قرض جاری کریں گے۔
فائدے اور ماہرین کی رائے
نوکری ملنے کے بعد افراد کو ویزا فیس، سفری اخراجات، ٹکٹ اور ابتدائی رہائش کے لیے بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔راولپنڈی کی خلیق ریکروئٹمنٹ ایجنسی کے ماہر نوید احمد قریشی نے کہا کہ یہ قرض بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ نوکری ملنے کے باوجود اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور کئی افراد اپنی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں یا مال مویشی فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
معاشی فوائد
حکومت کے اس اقدام سے:بیرون ملک ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ملک میں ترسیلات زر میں اضافہ ہو گا، جو کہ معیشت کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔یہ اسکیم ان افراد کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتی ہے جو بہتر روزگار کے مواقع کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے ایسا نہیں کر پاتے۔