سہیل آفریدی سمیت کسی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی

 رولپنڈی ،اسلام آباد( خصوصی رپورٹ)خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو نویں بار اڈیالہ جیل میں بانی تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کرنے سے جیل حکام نے ایک بار پھر روک دیا۔بانی سے رفقاء کی ملاقات کا وقت ختم ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی واپس چلے گئے۔وزیر اعلیٰ کے پی سمیت کسی پارٹی رہنماء￿ کو ملاقات کی اجازت نہ ملی بانی سے ملاقات کے لئے سہیل افریدی،شاہد خٹک،اڈیالہ جیل آئے تھے۔وزیر اعلیٰ آفریدی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی ملاقات طے تھی۔پی ٹی آئی کی جانب سے ایکس پر ایک پوسٹ کے مطابق، وزیر اعلیٰ آفریدی عمران سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئے لیکن انہیں رسائی نہیں دی گئی۔آفریدی نے جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ وہ فوری لائحہ عمل کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کریں گے کہ آیا وہ دھرنا دیں گے یا نہیں۔پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور ان کے وفد کی ایک ویڈیو انتظار گاہ میں شیئر کی، جس میں کہا گیا کہ آج نویں بار آفریدی کو عمران سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ آج نویں بار ہے کہ میں آیا ہوں، ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ بار بار آ رہا ہے لیکن پانچ منٹ کی ملاقات بھی نہیں ہو رہی، لہٰذا پوری دنیا اس امتیازی سلوک کو دیکھ رہی ہے اور ان کے اقدامات کو نوٹ کیا جا رہا ہے اور انہیں یاد رکھا جائے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ احتجاج کے طور پر ایک اور رات جیل کے باہر گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں فرنٹ فٹ پر کھیلنے آیا ہوں اور ہدایت ہے کہ امپائر ملی بھگت کر رہے ہیں لہٰذا خیال رکھیں۔ اس لیے ہم فرنٹ فٹ پر بھی کھیلیں گے اور امپائروں پر بھی نظر رکھیں گے۔ ملاقات سے مسلسل انکار ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا یہاں آنا انہیں تکلیف دیتا ہے، لہٰذا ہم انہیں یہ تکلیف بار بار دیں گے۔خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کے بارے میں ایک سوال پر آفریدی نے جواب دیا،وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں آج ہی نافذ کر دیں۔ ہم کسی گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔ وہ ان حالات کو قابو نہیں کر پائیں گے اور سنبھال نہیں سکیں گے جن کی میں پیشن گوئی کر رہا ہوں۔پہلی بار قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ کو برداشت نہ کرنے پر حکومت پر شدید تنقید کی۔ آفریدی نے کہا کہ انہیں ہٹانے سے قبائلی پٹی کے لوگوں میں غصہ اور مایوسی پیدا ہو گی۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’خیبر پختونخوا اور پاکستان کے لوگ اپنا مستقبل مجھ میں دیکھتے ہیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر راج ان کے لیے ’’جیت کی صورتحال‘‘ ہو گی کیونکہ وہ آزادانہ طور پر کام کر سکیں گے۔