دھات یا کیمیکل کوٹڈ ڈور کے استعمال یا فروخت پر 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ تک جرمانہ ہوگا
تین دہائیوں بعد بسنت کی خوشیوں کی بحالی کا سہرا وزیر اعلیٰ مریم نواز کے سر ہے:صوبائی وزیر اطلاعات
لاہور (سپیشل رپورٹر) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے پنجاب میں 25 سال بعد بسنت کی خوشیاں واپس آرہی ہیں، مگر اس بار یہ خوشی مکمل طور پر محفوظ، قانون کے دائرے میں اور سخت مانیٹرنگ کے ساتھ ہوگی۔انہوں نے واضح کیا کہ بسنت اب خطرہ نہیں بلکہ ایک محفوظ ثقافتی تہوار ہے، اور کسی کو بھی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عظمٰی بخاری نے کہا کہ خونی اور کیمیکل لگی ڈور کا دھندہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکیں گے جبکہ دھات یا کیمیکل کوٹڈ ڈور کے استعمال یا فروخت پر 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی جانب سے پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر پہلی بار 50 ہزار جبکہ دوسری بار 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ڈور بنانے اور بیچنے والوں کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی ہے اور اب ہر رول پر QR کوڈ کے ذریعے شناخت ہوگی۔موٹر سائیکل سواروں کے لیے بھی حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ نئے ٹریفک قوانین کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ ہر شہری کی جان، گھر اور خاندان کی حفاظت ہے۔ قانون کا احترام نہ کرنے والوں پر جرمانے ہوں گے اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی نیلام بھی ہوسکے گی۔