رول 265 کے تحت ایک ہفتے میں ایک بار ملاقات ہو سکتی ہے، ملاقات کرنے والوں کی تعداد 6 ہوگی، ہفتے میں ایک چٹھی بھی لکھ سکتے ہیں ‘ جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے :وفاقی وزیر قانون
عمران خان کی بہنیں ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو کرتی ہیں لہذا عظمیٰ خان کی ملاقات بند ہے، جیل کے باہر امن و امان کی صورت حال خراب کی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا:وزیراطلاعات
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی ایک سزا یافتہ مجرم ہیں، قیدی کو بغیر نگرانی کے ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی، رول557 کے تحت اگر سپرنٹنڈنٹ اگر قواعد کے مطابق ملاقات نہ سمجھیں وہ اسے ختم کر سکتے ہیں، اگر سپرنٹنڈنٹ کو امن وامان، نقص امن، انتشار کا خدشہ ہو تو وہ ملاقات روک سکتا ہے۔وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا آج کل بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں سے متعلق ایک بات بہت بار دہرائی جاتی ہے، ابھی اسلام آباد کی جیل آپریشنل نہیں ہوئی، اڈیالہ جیل پنجاب میں ہے اور وہاں بھی ہماری حکومت ہے اس لیے بات ہوتی ہے، جیل مینوئل کے تحت ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رول 265 کے تحت ایک ہفتے میں ایک بار ملاقات ہو سکتی ہے، ملاقات کرنے والوں کی تعداد 6 ہوگی، ہفتے میں ایک چٹھی بھی لکھ سکتے ہیں اور وہ جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے کیونکہ رولز میں واضح لکھا ہے کہ ملاقات میں جو بھی بات ہوگی اس کو پبلک نہیں کیا جا سکتا‘وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا بانی پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ میگا کرپشن کیس میں سزایافتہ قیدی ہیں، پی ٹی آئی کی خاتون رہنما نے بھارتی میڈیا اور افغان میڈیا پر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان خطرے میں ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں اضافی سہولیات دستیاب ہیں، ملکی تاریخ میں کسی قیدی کو بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات میسر نہیں،کسی قیدی کو قید میں بائیسکل نہیں ملی، عمران خان کی بہنیں ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو کرتی ہیں لہذا عظمیٰ خان کی ملاقات بند ہے، رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات پر پابندی عائد ہے اور جیل کے باہر امن و امان کی صورت حال خراب کی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا۔ اندر سے پیغام آتا ہے کہ فوج اور فوج کے سربراہ کے خلاف ٹویٹ کرو، یہ مایوسی کا شکار ہیں، پی ٹی آئی دور میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو گرفتار کیا گیا۔ ملاقاتوں کا مقصد قانونی بحث، حال احوال پوچھنا ہوتا ہے، جیل میں بیٹھ کر آپ ریاست کو گرانے کی بات کرتے ہیں، آپ کس ریاست کو گرانے کی بات کرتے ہیں، اس ریاست کو جس نے بھارت کو شکست دی، ایسٹرن اور ویسٹرن بارڈر مضبوط کیا۔