نازیہ آصف۔
فیض احمد فیض نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد 1973میں ڈھاکہ سے واپسی پہ کہا تھا "
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
جس پر بنگلہ دیشی صدر نے جواب دیا "فیض صاحب خون کے دھبے برساتوں سے نہیں دھلا کرتے"
16 دسمبر کو تقریبا نصف صدی گزر چکی مگر واقعی وہ خون کے دھبے نہ دھل سکے لیکن ا سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ خون کے ان دھبوں کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انھیں سزا دینے کی بجائے نوازا گیا۔نوے ہزار نفوس نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ آدھا پاکستان جل گیا مگر کہنے والوں نے کہا "کہ شکر ہے پاکستان بچ گیا "۔ مقام افسوس ہے کہ کبھی ہم نے سوچا ہی نہی کہ وہ سر زمین جہاں حکیم الامت کو خواب میں پاکستان کی بنیاد بنتی نظر آئیں ، جہاں قیام پاکستان سے پہلے مسلم لیگ کی حکومت قائم کی جا چکی تھی۔وہ بنگالی مسلمان جو 1905 میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر بنگال تقسیم کروا لیتے ہیں۔1906میں ڈھاکہ میں ہی ایک اجلاس میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گء اور اس اجلاس میں شرکت کرنے والے زعماء کی اکثریت بھی بنگال سے ہی تعلق رکھتی تھی۔ 1965 کی جنگ کے ہمارے ہیرو ایم ایم عالم کا تعلق بھی اسی دھرتی سے تھا۔ تحریک پاکستان کے دوران قائد کے تین معتمد ساتھی ،خواجہ ناظم الدین ،اے کے فضل الحق ،اور سہروردی صاحب کا تعلق بھی بنگال سے تھا۔ بنگالی ہماری آبادی کا %56 تھے۔سوچنے کی بات ہے کہ اتنی ساری باتوں کے باوجود کیا ہوا کہ وہی بنگالی چند سالوں بعد ہم سے شدید نفرت کرنے لگے۔
یہ بات بجا،کہ قومیں الگ ہوتی ہیں مگر اکثریت سے اقلیت جدا ہوتی ہے لیکن یہاں تو اس کے برعکس ہوا۔حقیقت میں نفرت کا یہ درخت کوئی خود رو نہ تھا۔اس کے بیج قیام پاکستان کے فورا بعد ہی بو دیے گئے تھے۔جب 1950میں بنگالی رہنماوں نے قرارداد مقاصد اور بنیادی کمیٹی کے اصولوں کے بارے میں دو اعتراض اٹھا دیے تھے۔
1۔قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کا تناسب
2۔ مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم۔
نفرت کے اس بیج کو پانی تب ملا جب گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو دستور ساز اسمبلی میں اکثریت رکھنے کے باوجود برطرف کر دیا اور محمد علی بوگرہ کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی۔اس طرح انھوں نے حکومت میں مشرقی پاکستان کی نمائندگی کو یکسر ختم کر دیا تھا۔اگرچہ محمد علی بوگرہ بھی بنگالی تھے مگر ان کی جڑیں عوام میں نہ تھیں۔ وہ امریکہ میں سفیر تھے، جبکہ بیوروکریسی میں ویسے ہی مشرقی پاکستان کا تناسب محض 10 سے 15فیصد تھا۔ یہ ساری باتیں مشرقی پاکستان میں مایوسی اور احساس کمتری پیدا کر رہی تھیں جن کا بروقت ادراک نہیں کیا گیا۔
میجر صدیق سالک اپنی کتاب "میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا "میں رقمطراز ہیں "چند ماہ پہلے بنگالی رنگروٹوں کا ایک دستہ سنٹر میں اپنی تربیت مکمل کر کے کراچی روانہ ہونے لگا تو کرنل صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا "تم لوگ اب خود دار بنگالی سپاہی ہو تم وہاں پنجابی افسروں کے بوٹ پالش کرنے ہر گز نہیں جا رہے، وقت آنے والا ہے کہ وہ تمھارے بوٹ پالش کریں
گے "۔
"قیام بنگلہ دیش کے وقت تقریبا ڈیڑھ کروڑ ہندو اس سرزمین پر موجود تھے جن کی اکثریت اعلی تعلیم یافتہ اور اعلی عہدوں پر متعین تھی۔1953 میں جب عوامی مسلم لیگ نے اپنے نام سے مسلم نکالا تو تمام تر سینئر مسلمان رہنماؤں نے استعفے دے دیے تو اس خلا کو پر کرنے کے لیے مالدار ہندو رہنماوں نے ان کی جگہ لے لی اور فورا اپنے ایجنڈے پر کام شروع کر دیا۔
انھوں نے سب سے پہلے قائد کی تصویر کی جگہ گاندھی کی تصویر لگانا شروع کر دی۔
دوسرا محاذ زہنی و فکری سطح پر کھولا گیا۔تمام بنگلہ فلموں کا مواد کلکتہ سے ناولز کی صورت میں آتا جس میں مزید تعصب بھر کر انھیں ڈرامائی تشکیل دی جاتی۔
سکولوں کے نصاب میں ایسے مضامین پڑھا ئے جاتے جن میں مشرقی پاکستان کا رشتہ کلکتہ سے جوڑا جاتا،
بنگالی زبان کو جواز بنا کر بنگالیوں کے تہذیبی ورثے پر حملے اور شوروغوغا کیا جاتا۔
ٹیگور کے سیکیولر خیالات کی بنا پر حکومت نے پابندی لگا رکھی تھی۔مگر پھر وہاں قائد کے یوم ولادت ،یوم دفاع ،یا یوم وفات کے مقابلے میں ٹیگور کا جنم دن پورے ٹھاٹھ سے منایا جانے لگا تھا۔
دشمن آہستہ آہستہ رگ وپے میں سرایت کرتا جا رہا تھا وہ 1965 کی ہزیمت کے بعد خم ٹھونک کر انتقام لینے پر تلا ہوا تھا۔1968 میں را کی تشکیل کے بعد اس نے مشرقی پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ چوکیاں بنا لی تھیں ، جہاں پر عوامی لیگ کے گماشتوں کو باقاعدہ اسلحہ اور تربیت دی جاتی تھی۔ ہندوستانی صحافی اشوک رائنا اپنی کتاب ،in side the raw میں لکھتا ہے "بغاوت کے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے1965 میں اگرتلہ (بھارتی شہر )میں مجیب الرحمن اور سنکرن نائر کی ملاقات ہوء۔منصوبہ یہ تھا کہ پاک فوج اور حکومت کے موجودہ افسران کو ملا کر بغاوت کروائی جائے " اگرتلہ سازش ایک ایسا کارنامہ تھا جس میں دشمن نے نہایت مکاری سے پاکستان کو شامل کر کے بدنام کیا۔جس کے اثرات نے سقوط ڈھاکہ کے سانحہ میں انتہاء اہم کردار ادا کیا۔ 1970 کے انتخابات تک شیخ مجیب نے بنگالی عوام کے دل و دماغ کو مکمل طور پہ قابو کر لیا ہوا تھا اور وہ برملا اس کا اظہار بھی کرتا تھا جیسے "کوء شخص میری مرضی کے خلاف نہیں جا سکتا کوء، شخص مجھے ،نہ ، نہیں
کہہ سکتا، حتی کہ یحی بھی میرے مطالبات کو رد نہیں کر سکتا "۔ دھونس، دھاندلی، غیاری و عیاری کی سب کو کھلی چھٹی ملی ہوء تھی۔ بنگالی قومیت کی وباء فزوں تر ہوتی جارہی تھی۔اور عوامی لیگ اسے مکمل طور پر اپنے حق میں استعمال کر رہی تھی۔اب 1970 کے الیکشن قریب تھے اور صورت حال یہ تھی کہ ڈھاکہ،کھلنا،چٹاگانگ اور رنگپور دھماکوں سے لرز رہے تھے۔ صنعتی زندگی مکمل طور پہ مفلوج ہو چکی تھی۔تعلیمی ادارے تعلیم کے لیے بند اور دہشت گردی کے لیے کھلے تھے۔ عوامی لیگ کے گماشتوں کے آگے دوسرے حریف میدان چھوڑ چکے تھے۔اصل میں عوامی لیگ پہلے ہی جیت چکی تھی۔سات دسمبر کو محض اعلان ہونا باقی تھا۔ عوامی لیگ نے اپنے چھ نکات کی بنیاد پر انتخابات میں کلین سویپ کیا تھا اور اب وہ ان سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھی۔
دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان میں 138 میں سے 81 نشستیں اپنے نام کر لی تھیں، مشرقی پاکستان میں ان کی نمائندگی ہی نہ تھی۔ وہ اپنے تئیں پھولے پڑے تھے ان کا کہنا تھا۔"میری جماعت کے بغیر کوء دستور بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مرکز میں کوء حکومت بنائی جا سکتی ہے۔ پنجاب اور سندھ طاقت کے سرچشمے ہیں مرکز میں قائم ہونے والی کسی بھی حکومت کے لیے ان کا تعاون ناگزیر ہو گا"۔
اس طرح کے بگڑتے حالات کو سہارا دینے کے لیے 12 جنوری 1971 کو جنرل یحی نے ڈھاکہ پہنچ کر مجیب سے ملاقات کی۔ جس میں یحی نے مجیب کے چھ نکات قبول کر لیے مگر اس باقاعدہ ملاقات کے بعد ایک اور ملاقات بھی ہوئی جس کا زکر پروفیسر جی ڈبلیو چوہدری کی کتاب میں بھی ملتا ہے وہ لکھتے ہیں
" اس ملاقات کے بعد یحی خان بہت آزردہ تھے۔وہ کہتے تھے "مجیب الرحمن نے مجھ سے بدعہدی کی ہے جو مجھے اس سے محتاط رہنے کی تلقین کرتے تھے وہ سچے تھے۔"اس وقت یحی کے لہجے میں دردمندی تھی۔وہاں سے وہ سیدھے لاڑکانہ پہنچے تو بھٹو نے خوب ان کی میزبانی کی ، مرغابی کا شکار کھلایا۔ڈھاکہ کے ایک وسیع وعریض لان میں چہل قدمی کرتے دکھایا گیا۔اس سارے تصور نے آگے چل کر نہائت بھیانک رخ اختیار کر لیا اور اسے "لاڑکانہ پلان" کا نام دیا گیا۔ بعد میں بھٹو مجیب ملاقات بھی ہوء جس پر عوامی لیگ نے تبصرہ کیا " مسٹر بھٹو نے دستوری مسائل میں کوئی دلچسپی نہ لی تمام وقت اقتدار میں شرکت اور حکمرانوں کی تقسیم پر بات کرتے رہے۔ معلوم ہوتا ہے ان کے نزدیک اقتدار سے اہم کوئی شے نہیں تھی"۔ اس ساری صورتحال کا خاکہ میجر سالک اپنی کتاب "میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا "میں بڑی خوبصورتی سے اس طرح کھینچا یے۔جنوری 1971 کے آخر میں عوامی لیگ کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ کہاں کھڑی ہے۔میرے خیال میں یحی اور ذوالفقار بھٹو کو بھی احساس تھا کہ وہ کہاں تک اپنے عزائم میں کامیاب ہو سکتے ہیں مجیب کا خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ 15 فروری تک قومی اسمبلی کا اجلاس ہو جانا چاہیے۔جبکہ بھٹو صاحب اسمبلی سے باہر کسی سمجھوتے کے لیے وقت چاہتے تھے۔ یحی خان اپنی مشینری کے ہمراہ اپنا الگ لائحہ عمل بنائے بیٹھے تھے۔سیاسی تکون ،یحی، مجیب اور بھٹو سب حالات جو اپنے رخ سے دیکھ رہے تھے اور صورتحال روزانہ خراب سے خراب تر ہوتی جارہی تھی۔ روشنی کی کوء کرن نظر نہیں آتی تھی۔دشمن کی چال پوری طرح کامیاب ہو چکی تھی۔ وہ ہمارے گلے تک پہنچ چکا تھا اس نے اپنے ہتھیار صیقل کر لیے تھے۔ مکتی باہنی روپ میں بنگالی باغی، بنگال رجمنٹ اور انڈیا پاکستان رائفلز کے ریٹائرڈ افسران اس کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے استعمال شدہ جنگی اسلحے کے انبار ڈھاکے کے باغی اور مفرور
لیڈروں کی کرمفرمائیوں کے طفیل بنگلہ دیش پہنچ رہے تھے۔انھیں سرحدی چوکیوں سے تربیت پا کر ایک لاکھ مکتی باہنی واپس اپنے شہروں کو لوٹ چکے تھے۔جسے روکنے کے لیے پاک فوج نے آپریشن "
سرچ لائیٹ " شروع کیا جو بری طرح ناکام رہا کیونکہ ایک جیسے قد اور خدوخال رکھنے والے والوں میں سے شر پسند عناصر کو تلاش کرنا ناممکن تھا۔
وقت جوں جوں گزر رہا تھا ان شر پسند عناصر کی تخریب کاری میں تیزی آتی جارہی تھی۔دوسری طرف مغربی پاکستان کا حال یہ تھاکہ مشرقی پاکستان میں شورش برپا تھی اور یحی خان راولپنڈی میں بیٹھے تماشہ دیکھ رہے تھے۔انھیں اس بات کی کوئی فکر نہ تھی کہ حالات سدھارنے کے لیے کچھ کیا جائے۔
بقول سالک صاھب "جون میں یحی خان نے ڈھاکہ جانے کا پروگرام بنایا وہ راولپنڈی سے روانہ بھی ہوئے مگر کراچی میں اس کتیا کے چنگل میں ایسے پھنسے کہ ڈھاکہ جانا ہی بھول گئے۔(غالبا ان کا اشارہ اس خاتون کی طرف تھا جس سے وہ راحت پاتے تھے)۔سرحدوں پر جنگ چھڑ چکی تھی۔جس کی پہلی زد ہماری فضائیہ پر پڑی تھی۔3 اور 4 دسمبر کء درمیانی شب دشمن کے تیز رفتار جنگی طیاروں نے ڈھاکہ ائیرپورٹ پر تباہی مچائی تو اس کے دس طیارے تباہ ہوئے۔صورت حال کو بھانپتے ہوئے دشمن نے سٹریٹجی بدل لی اور مواصلاتی نظام کو درہم برہم کرنا شروع کر دیا لیکن پاکستان کی فضائیہ کام نہ کر سکی۔کیونکہ طیارہ اغواء سازش کے تحت بھارت مغربی پاکستان کے طیاروں کے لیے اپنا فضائی راستہ پہلے ہی بند کر چکا تھا۔اب دشمن نے روسی ساخت کے مگ 21 سے پانچ سو کلوگرام کے چھ وزنی بم گرا کر ہمارے ائیرپورٹ کو ناکارہ کر دیا ، اور یوں ہماری فضائیہ ناکارہ ہو گء۔ ہماری بری فوج حوصلے میں جوان مگر تعداد میں بہت کم تھی۔صوبے بھر میں واحد ٹینک رجمنٹ تھی اور ٹینک بھی جنگ عظیم میں اپنے جوہر دکھا چکے تھے۔جن کا ماضی شاندار مگر حال خستہ تھا۔۔
ہیلی کا معرکہ:
جس کا میں بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گی ہلی وہ مقام تھا جو 21 نومبر سے دشمن کی آنکھ میں کھٹک رہا تھا اس نے اپنے 20 ڈویڑن اور توپ خانے سمیت ڈیرا یہاں ڈال رکھا تھا یہاں چراء کے مقام پر میجر اکرم اپنی کمپنی کے ساتھ موجود تھے۔دشمن ان پر پے درپے حملے کر رہا تھا۔ دشمن نے شدید قسم کی گولہ باری کی۔اس صورت حال میں میجر اکرم مورچے سے باہر نکل کر اپنے جوانوں کو ہدایت دیتے ہوئے شہید ہو گئے جنھیں بعد از ان نشان حیدر بھی دیا گیا۔عجیب صورت حال تھی کہ دشمن ہماری فضائیہ کو ختم کر کے جی بھر کر جائزہ لیتے اور بمباری کرتیرہے۔دراصل جنگیں سچے جزبوں سے لڑی جاتی ہیں مگر یہاں مٹھی بھر فوج اور زمینی حالات سے لے کر موسموں تک سب دشمن تھے۔محدود ایمونیشن ،شر پسند عناصر، مکتی باہنی کی غداریاں ، سیاستدانوں کی ناتجربہ کاریاں، ہوس، ناکام سفارتکاری اور سب سے بڑھ کر فوج میں موجود بنگالی افسران کی من مانیاں سب نے مل کر ایسے المیے کو جنم دیا جس کا داغ شائد کء برساتوں کے بعد بھی نہ دھل سکے۔
خاص بات کہ اس معرکے میں میرے والد صاحب بھی شامل تھے۔ اللہ پاک انھیں اچھی صحت اور تندرستی دے اور ان کا سایہ شفقت ہم پہ سلامت رکھے آمین!
قلمکار۔۔۔