کاشف بٹ
اوکاڑہ کے علاقے منڈی احمد آباد میں پیش آنے والا یہ سانحہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرے کی الم ناک حقیقت کا آئینہ ہے۔ دو بہنیں، جن کے وجود میں ایک ماں کی آغوش کی خوشبو اور ایک باپ کے خواب کی جھلک شامل تھی، اپنے ہی بھائی کی گولیوں کا نشانہ بن گئیں۔ ایک نے اپنی پسند کا حق مانگا اور دوسری نے صرف بہن کی ڈھال بننے کی کوشش کی—لیکن دونوں کو اپنی ہی چھت تلے موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا۔یہ المیہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر کب تک ہم رشتوں کو محبت کی بجائے ملکیت سمجھتے رہیں گے؟ کب تک بہن، بیٹی اور عورت کی زندگی مرد کی انا اور جھوٹی غیرت کے تابع رہے گی؟ ہم نے رشتوں کی معنویت کو بدل ڈالا ہے۔ بھائی کا کندھا جو بہن کے لیے سب سے بڑا سہارا ہونا چاہیے تھا، وہی کندھا بندوق اٹھانے کے لیے استعمال ہوا۔غیرت کا تصور بھی ہمارے ہاں عجب ہے۔ بہن اپنی پسند کرے تو غیرت جاگ جاتی ہے، مگر بھائی اگر ظلم کرے، دھوکہ دے یا حرام کمائے تو غیرت غائب ہو جاتی ہے۔ یہ تضاد ہماری روحوں کو زنجیروں میں جکڑ چکا ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا نقصان ہم اپنے خونی رشتوں کو مار کر، اپنے گھروں کو اجاڑ کر اور اپنی نسلوں کو خوف میں دھکیل کر اٹھا رہے ہیں۔یہاں سب سے زیادہ کربناک لمحہ وہ ہے جب دوسری بہن نے صرف بہن کو بچانے کی کوشش کی۔ اس نے رشتہ نبھانے کا سب سے بڑا حق ادا کیا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بھی خون میں نہا گئی۔ گویا اس گھر میں محبت اور تحفظ کی جگہ نفرت اور انتقام نے لے لی۔یہ واقعہ صرف دو بہنوں کا قتل نہیں، بلکہ "اعتماد" کے قتل کی داستان ہے، "رشتے" کے قتل کی روداد ہے، "انسانیت" کے قتل کی سرخی ہے۔ جب بھائی ہی قاتل بن جائے تو پھر دشمنی کا چہرہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گھروں کے اندر جھانک کر دیکھیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ رشتے محبت اور عزت سے جیتے ہیں، انا اور بندوق سے نہیں۔ اگر ہم نے برداشت، مکالمے اور احترام کو اپنی زندگیوں کا حصہ نہ بنایا تو آنے والے وقت میں یہ خونی رشتے ہماری کہانیوں کا سب سے بڑا سانحہ بن جائیں گے۔محبت، قربانی اور اعتماد—یہی وہ ستون ہیں جن پر رشتے قائم رہتے ہیں۔ اگر ہم نے ان ستونوں کو ڈھا دیا تو یاد رکھیں، صرف گھر ہی نہیں ٹوٹیں گے، بلکہ دل، نسلیں اور پورا معاشرہ ٹوٹ کر بکھر جائے گا۔