عاصم رضا خیالوی
بازاروں میں تماشے لگتے ہیں، مداری اپنی ڈگڈگی بجاتے ہیں، بندر اور کتے کے کرتب دکھاتے ہیں۔ کبھی یہ کھیل لوگوں کو مسحور کر دیتے تھے، مگر وقت کی گرد نے ان پر وہ دھند چڑھا دی ہے کہ اب لوگ ان مناظر سے اکتا چکے ہیں۔ مداری، جو کبھی معصوم آنکھوں کو حیرت میں ڈال دیتا تھا، اب لوگوں کی بے نیازی دیکھ کر بلند آواز میں اعلان کرتا ہے کہ آج وہ ایسا نیا تماشہ دکھائے گا جو نہ کبھی دیکھا گیا نہ سنایا گیا۔
لوگوں کی طبعیت میں تجسس جاگتا ہے۔ وہ رکتے ہیں، قریب آتے ہیں، ہجوم بنتا ہے۔ مگر جب مداری اپنی بوسیدہ ڈگڈگی بجانا شروع کرتا ہے، تبھی حقیقت سامنے آ جاتی ہے:
نہ کوئی نیا کرتب، نہ کوئی نیا منظر۔ وہی پرانی پھسپھسی چالیں، وہی بار بار دہرائے گئے تماشے۔
لوگوں کا وقت ضائع ہوتا ہے، جیبیں ہلکی ہوتی ہیں، اور آنکھوں میں مایوسی کا عکس گہرا ہو جاتا ہے۔
یہ تماشہ گلی کوچوں تک محدود نہیں۔
یہی فریب، یہی جھوٹی تسلیاں، کہیں بڑی دنیا میں، وسیع میدانوں میں بھی کھیلی جاتی ہیں۔
جہاں مداریوں کی جگہ طاقتور قومیں، ڈگڈگیوں کی جگہ عالمی قراردادیں، اور بندر کتے کی جگہ انسانوں کی زندگیاں ہوتی ہیں۔
چند گلیوں پر نظر ڈالیں تو ایک اور منظر ابھرتا ہے۔
ایک صاحب بہترین لباس میں ملبوس، خوشبودار فضا بکھیرے، چند مرتبان اپنے سامنے سجا کر کھڑے ہیں۔ ان کی زبان میں ایک خاص قسم کی جادوگری ہے۔ وہ اپنے بنائے ہوئے نسخوں کے قصیدے ایسے جوش و خروش سے پڑھتے ہیں کہ راہگیر، جو گھروں سے آٹا چینی لینے نکلے تھے، خود کو ان کے مجمعے میں کھڑا پاتے ہیں۔
ان نسخوں کی تعریف میں وہ اس قدر مہارت رکھتے ہیں کہ نسلوں کی کہانیاں سناتے ہیں، آباؤ اجداد کی حکمت کی داستانیں بْنتے ہیں، اور عوام اپنی ضروریات بھول کر ان خوابوں کی سوداگری میں شامل ہو جاتی ہے۔
صحت خریدی جاتی ہے، امید خریدی جاتی ہے، مگر آخر میں ہاتھ آتا ہے فقط دھوکہ اور مایوسی۔
یہی کھیل عالمی اسٹیج پر کھیلا جاتا ہے، جہاں "امن" کا نعرہ لگا کر اسلحہ بیچا جاتا ہے،
جہاں "بھائی چارے" کے خطبے دے کر جنگی منڈیاں آباد کی جاتی ہیں،
جہاں اقوام متحدہ کے ہالوں میں جنگ بندی کی صدائیں گونجتی ہیں مگر حقیقت میں خون کی ندیاں بہانے کے معاہدے ہوتے ہیں۔
ابھی فلسطین کی گلیوں سے جنازے اٹھ رہے ہیں۔
ابھی شام میں یتیم بچوں کی چیخیں آسمان چیر رہی ہیں۔
ابھی یوکرین میں ماؤں کی آہیں زمین کو ہلا رہی ہیں۔
ابھی کشمیر کی وادیوں میں سسکتی انسانیت کی سانسیں باقی ہیں۔
اور انہی چیخوں، انہی آہوں، انہی جنازوں پر، طاقتوروں کی اسلحہ منڈیاں مزید روشن ہو رہی ہیں۔
جنگیں قوموں کو برباد کرتی ہیں۔
معیشتیں کمزور پڑتی ہیں، نسلیں مٹتی ہیں، شہروں کے شہر کھنڈر بن جاتے ہیں۔
فلسطین کی تباہی، شام کی بربادی، یوکرین کی ویرانی، کشمیر کی مظلومیت—سب اس صدی کے سب سے بڑے تماشے کی گواہی دیتے ہیں،
جہاں ایک طرف موت بیچی جا رہی ہے، دوسری طرف امن کے نام پر تالی بجائی جا رہی ہے۔
اور پھر سوال اٹھتا ہے:
کیا بھارت اور پاکستان کے لوگ نئی جنگ کی تباہی سہہ سکتے ہیں؟
کیا غربت، جہالت، بھوک اور بیماریوں میں ڈوبی ہوئی یہ قومیں مزید لاشیں اٹھانے کی متحمل ہو سکتی ہیں؟
طاقت کے زعم میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ قبضہ ہی زندگی ہے، تو وہ زندگی کی اصل روح سے ناواقف ہے۔
امن ہی زندگی ہے۔
تعمیر ہی بقا ہے۔
انسانیت کی خدمت ہی حقیقی طاقت ہے۔
اگر جنگ کرنی ہے تو جہالت کے خلاف کرو،
اگر میدان سجانا ہے تو غربت کے خاتمے کے لیے سجاو?،
اگر تماشہ لگانا ہے تو صحت و تعلیم کی روشنی کے لیے لگاو?۔
مگر افسوس، یہ دنیا ابھی تک مداریوں اور حکیموں کے تماشوں میں الجھی ہوئی ہے۔
بندروں کی جگہ انسان نچ رہے ہیں، اور تالیوں کی گونج میں خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں۔
دنیا کو نئے تماشے کی ضرورت نہیں۔
دنیا کو نئی بیداری کی ضرورت ہے۔
ایسی بیداری جو مداریوں کی ڈگڈگی توڑ دے،
ایسی آگہی جو بندوقوں کے سوداگر بے نقاب کر دے،
ایسا شعور جو انسانیت کو اصل آزادی دے۔
امن ہی سب سے بڑی فتح ہے۔ امن ہی زندگی ہے۔ جنگ صرف شکست کا دوسرا نام ہے