غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، 24 گھنٹوں میں 60 سے زائد فلسطینی شہید

غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، 24 گھنٹوں میں 60 سے زائد فلسطینی شہید

ویب ڈیسک: اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

 گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کی جانے والی تازہ کارروائیوں میں 60 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

 عالمی سطح پر شدید ردعمل
عالمی عدالت انصاف میں سماعت:
جنوبی افریقا کے نمائندے نے کہا کہ:

"غزہ میں امداد کی بندش دراصل نسل کشی کا حصہ ہے، اسرائیل پوری دنیا کے سامنے انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔"
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ:
رپورٹ میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو بھی نسل کشی قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کہا گیا ہے۔
 اقوام متحدہ کی پوزیشن
سلامتی کونسل اجلاس:
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے زور دیتے ہوئے کہا:

"دو ریاستی حل اب ناگزیر ہو چکا ہے، غزہ کو مستقبل کی خودمختار فلسطینی ریاست کا لازم جزو تصور کیا جانا چاہیے۔"
 زمینی حقائق:
غزہ میں ادویات، خوراک اور پانی کی شدید قلت ہے۔
ہسپتالوں پر بمباری اور بجلی کی بندش سے طبی سہولیات تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔
ہزاروں افراد بے گھر، اور لاکھوں افراد انسانی امداد کے منتظر ہیں۔
 انسانی حقوق کی تنظیموں کی اپیل:
عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔