اسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ آج کسی بھی وقت چاند سے ٹکرا سکتا ہے۔
یہ وہی راکٹ ہے جس کے ذریعے جنوری 2025 میں دو نجی قمری مشنز کو خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔فالکن 9 کے ذریعے امریکی کمپنی فائر فلائی ایرو اسپیس کا بلیو گھوسٹ قمری لینڈر اور جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا ریزیلینس لینڈر چاند کی جانب بھیجا گیا تھا۔ بلیو گھوسٹ نے مارچ 2025 میں کامیابی سے چاند پر لینڈنگ کی تھی، جبکہ ریزیلینس چند ماہ بعد لینڈنگ کی کوشش کے دوران ناکام ہو گیا تھا۔ماہرین کے مطابق فالکن 9 کے پہلے مرحلے نے لانچ کے بعد زمین پر کامیابی سے واپسی کی، تاہم دوسرا مرحلہ خلائی مشنز کو چاند کی سمت بھیجنے کے بعد خلا میں ہی موجود رہا۔اسپیس ایکس میں ناسا سائنس اور ڈریگن پروگرامز کی ڈائریکٹر جولیانا شیمین کے مطابق زمین کے قریب مدار میں بھیجے جانے والے مشنز کے بعد راکٹ کے بالائی حصے کو عموماً زمین کی فضا میں داخل کر کے جلا دیا جاتا ہے، لیکن زیادہ توانائی والے اور گہرے خلائی مشنز میں ایسا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ اس مشن میں بھی تمام حفاظتی اصولوں کے مطابق کارروائی کی گئی تھی، تاہم سورج کی سرگرمیوں اور کششِ ثقل کے مشترکہ اثرات نے راکٹ کے بالائی حصے کا مدار تبدیل کر دیا، جس کے باعث اب وہ چاند سے ٹکرانے کی سمت بڑھ رہا ہے۔خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ تصادم سے زمین کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے، تاہم سائنسی اعتبار سے یہ ایک اہم واقعہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سے چاند کی سطح پر تصادم کے اثرات، خلائی ملبے کی حرکت اور مستقبل کے قمری مشنز کی منصوبہ بندی سے متعلق قیمتی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔