اسلام آباد: پشتونخوا میپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس میں کہا ہے کہ آئیں ہم سب توبہ کریں اور ایک دوسرے کو معاف کریں۔
اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سے مخاطب ہوتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ایک ممبر نے آئین کی پاسداری نہیں کی، آپ ایوان کے کسٹوڈین کی حیثیت کھو چکے ہیں، آپ کے ممبران کو یہاں سے کھینچ کر نکالا گیا، اگر آپ کسٹوڈین رہنا چاہتے ہیں تو اس پر بحث کرائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جو اراکین کو ملاقات کی اجازت نہیں دیتا اس کو نکالیں، بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے مقبول لیڈر ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ سب کو اکٹھے بیٹھ کر بات کرنا ہوگی، پونے چار سال کے پروڈکشن آرڈر کا ریکارڈ نکال لیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، آپ ابتداء کریں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی اس کا ساتھ دے رہی ہے، آپ کو اسٹینڈ لینا چاہیے تھا کہ ممبران کی درگت کیوں بنائی گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو کے خلاف قرارداد پاس ہونی چاہیے اور اسے بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک نئی سیاست کا آغاز کریں جس میں فیصلے یہ ایوان کرے اور تمام صوبوں کو ان کے وسائل کا حق دیا جائے، اگر خانہ جنگی ہوئی تو اس کی ذمہ دار شہباز شریف حکومت ہوگی۔