ماسکو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری آبدوزیں تعینات کرنے کے اعلان پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری معاملات پر بیان بازی میں "انتہائی احتیاط" برتنے کی ضرورت ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کے روز کہا:"روس جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے اور ہر کسی کو جوہری بیانات کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔"یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے سابق روسی صدر اور موجودہ روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری مدویدیف کے مبینہ "اشتعال انگیز تبصرے" کے جواب میں دو جوہری آبدوزیں تعینات کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ آبدوزیں جوہری اسلحے سے لیس ہوں گی یا صرف جوہری توانائی سے چلنے والی ہوں گی، اور ان کی جگہ بھی ظاہر نہیں کی گئی۔
کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب مدویدیف نے ٹرمپ کے یوکرین جنگ پر روس کو الٹی میٹم دینے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:"ہر نیا الٹی میٹم جنگ کی طرف ایک قدم ہے — نہ صرف روس اور یوکرین کے درمیان بلکہ امریکہ کے خلاف بھی۔"دوسری جانب یوکرینی صدر کے چیف آف اسٹاف آندری یرماک نے ٹرمپ کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا:"طاقت کے ذریعے امن کا تصور کارگر ہے، جیسے ہی امریکی آبدوزیں آئیں، ایٹمی دھمکیاں دینے والا روسی رہنما اچانک خاموش ہوگیا۔"
Ask ChatGPT