ویب ڈیسک: روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو اب زمین سے درمیانے فاصلے (1,000–5,500 کلومیٹر) اور کم فاصلے (500–1,000 کلومیٹر) تک مار کرنے والے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی تیاری، جانچ یا تعیناتی پر خود پر عائد پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔
پابندیوں کے خاتمے کی وجوہات
روسی وزارت خارجہ کے مطابق وہ حالات جن کی بنیاد پر ماسکو نے یکطرفہ طور پر یہ پابندیاں برقرار رکھی تھیں، اب تبدیل ہو چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ نیٹو اور امریکا کی جانب سے بارہا دیے گئے روسی انتباہات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا، جس کے بعد ماسکو اس نتیجے پر پہنچا کہ INF معاہدے کی یکطرفہ پاسداری غیر مؤثر ہے۔
امریکا اور مغرب پر الزامات
وزارت نے دعویٰ کیا کہ امریکا نہ صرف ان میزائلوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ انہیں یورپ، ایشیا اور بحرالکاہل میں تعینات کرنے کے انتظامات بھی کر رہا ہے۔روسی حکام نے واضح کیا کہ ملکی قیادت امریکی و مغربی میزائلوں کی تعیناتی کے مطابق "مناسب جوابی اقدامات" کرے گی۔
صدر پیوٹن کے خدشات
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکی میزائل ڈنمارک اور فلپائن تک پہنچائے جا چکے ہیں، جو روسی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
پس منظر
یاد رہے کہ امریکا 2019 میں INF معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدہ ہو چکا ہے۔ یہ معاہدہ 1987 میں امریکا اور سابق سوویت یونین کے درمیان ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک نے درمیانے فاصلے کے زمین سے داغے جانے والے بیلسٹک اور کروز میزائلوں پر پابندی عائد کی تھی۔