پاکستانی فاسٹ بولرز نے ایک سال کے دوران ابتدائی 10 اوورز میں دوسری بدترین بالنگ کا ناپسندیدہ ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔
ٹی20 ورلڈکپ 2024، آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی 2025 اور دیگر سیریز میں پاکستانی فاسٹ بولرز کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔مشہور پاکستانی فاسٹ بولرز، جو کبھی اپنی تیز گیندبازی کے لیے جانے جاتے تھے، پچھلے ایک سال میں اپنی لائن اور لینتھ بھول چکے ہیں۔ ابتدائی 10 اوورز میں پاکستانی ٹیم نے 36 کی اکانومی کے ساتھ رنز کے انبار لگوائے، جو کہ ایک تشویشناک بات ہے۔اس فہرست میں انگلینڈ کے فاسٹ بولرز کی کارکردگی سب سے بدترین رہی، جہاں حریف ٹیموں نے 37.3 کی اکانومی سے رنز بنائے، جبکہ جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولرز 33 اور بھارت کے فاسٹ بولرز 31.4 کی اکانومی کے ساتھ پہلے 10 اوورز میں رنز دینے والے تھے۔
پاکستانی فاسٹ بولرز کی ناقص کارکردگی پر فینز نے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے، اور انہیں یاد دلا دیا ہے کہ یہ وہی ٹیم تھی جس کے پاس وسیم اکرم، وقار یونس، اور شعیب اختر جیسے اسپیڈ اسٹار موجود تھے، جو کبھی مخالف ٹیموں کے لیے خوف کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ آج وہی ٹیم پیس اٹیک کی کمی محسوس کر رہی ہے۔ فینز کا کہنا ہے کہ فاسٹ بولنگ میں کمیابی اور سخت محنت کی ضرورت ہے تاکہ اس ناپسندیدہ ریکارڈ کو بہتر بنایا جا سکے۔