سورج کے خاتمے کے باوجود زمین بچ سکتی ہے، نئی تحقیق نے مستقبل کے بارے میں نیا امکان پیش کر دیا

سورج کے خاتمے کے باوجود زمین بچ سکتی ہے، نئی تحقیق نے مستقبل کے بارے میں نیا امکان پیش کر دیا

ایک نئی سائنسی تحقیق نے زمین کے مستقبل کے حوالے سے ایک حیران کن امکان پیش کیا ہے۔

 ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ سورج کے اختتامی مراحل کے دوران زمین مکمل طور پر تباہ ہو جائے، بلکہ ممکن ہے کہ ہمارا سیارہ اس تباہ کن مرحلے سے بچ نکلے۔یہ تحقیق معروف فلکیاتی جریدے "ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس" میں شائع ہوئی ہے، جس کی قیادت بیلجیم کی KU Leuven University کے انسٹی ٹیوٹ آف آسٹرونومی سے تعلق رکھنے والے محقق ماتس ایسلڈئرس نے کی۔تحقیق کے مطابق سورج جیسے ستاروں کے ارتقائی مراحل کے مشاہدے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زمین کا مستقبل لازمی طور پر مکمل تباہی پر ختم نہیں ہوگا۔سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تقریباً 5 ارب سال بعد سورج کے مرکز میں موجود ہائیڈروجن ایندھن ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس عمل کے بعد سورج موجودہ حجم کے مقابلے میں کئی گنا پھیل جائے گا اور ایک سرخ دیو ستارے میں تبدیل ہو جائے گا۔بعد ازاں سورج اپنی زندگی کے آخری مرحلے یعنی اے جی بی (Asymptotic Giant Branch) مرحلے میں داخل ہوگا، جس کے بعد وہ اپنی بیرونی تہیں خلا میں خارج کرکے ایک سفید بونے ستارے میں تبدیل ہو جائے گا۔ سفید بونا دراصل ایک مردہ ستارے کا انتہائی گرم اور گھنا باقی ماندہ مرکز ہوتا ہے۔

ماضی میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ سورج کے پھیلنے کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت اور کشش ثقل کے باعث زمین، عطارد اور زہرہ جیسے سیارے سورج کی لپیٹ میں آ جائیں گے اور مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے۔تاہم نئی تحقیق میں ستاروں کے ارتقا کے جدید ماڈلز اور قریبی مرتے ہوئے ستارے ایل ٹو پپیس (L2 Puppis) کے مشاہدے کی بنیاد پر ایک مختلف امکان سامنے آیا ہے۔محققین کے مطابق زمین کے مستقبل کا فیصلہ دو اہم عوامل کریں گے۔پہلا امکان یہ ہے کہ جب سورج پھیل جائے گا تو اس کی کشش ثقل زمین کو آہستہ آہستہ اپنی جانب کھینچ لے گی اور بالآخر زمین سورج میں سما سکتی ہے۔دوسرا امکان یہ ہے کہ سورج اپنے آخری مراحل میں بڑی مقدار میں کمیت خلا میں خارج کرے گا۔ اس صورت میں سورج کی کشش ثقل کمزور ہو جائے گی اور زمین کا مدار مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس کے باعث زمین سورج سے دور جا کر تباہی سے بچ سکتی ہے۔

محققین کے مطابق زمین کا انجام اس بات پر منحصر ہوگا کہ سورج اپنی کمیت کتنی تیزی اور کس مقدار میں کھوتا ہے۔ اگر سورج کی کشش ثقل کا اثر زیادہ طاقتور رہا تو زمین کے نگلے جانے کا امکان بڑھ جائے گا، جبکہ اگر سورج کی کمیت میں کمی غالب رہی تو زمین ایک بڑے مدار میں منتقل ہو کر محفوظ رہ سکتی ہے۔محقق ماتس ایسلڈئرس کے مطابق زمین کا مستقبل سورج کی کشش ثقل اور اس کے کمیت کھونے کے عمل کے درمیان ایک نازک توازن پر منحصر ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی حتمی طور پر یہ پیش گوئی نہیں کی جا سکتی کہ اربوں سال بعد زمین کا انجام کیا ہوگا، تاہم نئی تحقیق نے یہ امکان ضرور پیدا کیا ہے کہ شاید ہمارا سیارہ سورج کے خاتمے کے باوجود مکمل طور پر ختم نہ ہو۔