وزیرِ اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے حالیہ بیان میں چترال کے جنگلات کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ان جنگلات کے نقصان سے قومی خزانے کو 866 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے یہ بات لاہور سے جاری ایک بیان میں کہی، جس میں انہوں نے اس معاملے کی سنگینی پر روشنی ڈالی۔عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا (کے پی کے) حکومت کی مالی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ خاص طور پر انہوں نے ذکر کیا کہ خیبر پختونخوا کے سیاستدان پنشن فنڈ کی رقم نہیں چھوڑتے، جس سے ایک اور سنگین سوال اٹھتا ہے کہ عوامی پیسے کا کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے ایک اور متنازعہ بات کا حوالہ دیا جس میں گنڈا پور نے خود تسلیم کیا کہ 75 کروڑ روپے اپنے سیاسی پارٹی پر خرچ کیے ہیں۔ اس پر بھی سوالات اُٹھتے ہیں کہ سیاسی مقاصد کے لیے عوامی خزانے کا کس طرح استحصال ہو رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے اس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے حوالے سے بھی ایک اور سکینڈل کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے محکمہ صحت نے 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کی قیمت کے دستانے خریدے تھے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ دستانے اسپتالوں میں موجود ہی نہیں ہیں۔ اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صحت کے شعبے میں فنڈز کی تقسیم اور استعمال میں کرپشن اور بے ضابطگیاں موجود ہیں۔اس بیان سے پنجاب حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں مالی بدعنوانیوں اور وسائل کے غلط استعمال کے خلاف ایک نیا سوال اُٹھایا گیا ہے، جو عوامی سطح پر بڑی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔