اسلام آباد‘راولپنڈی میں بارش‘لاہور میں بھی بادل برس پڑے

صوبائی دارالحکومت میں سب سے  زیادہ بارش اقبال ٹاؤن میں 29.2 ملی میٹر ریکارڈ،مزید کا امکان
 پاکستانی گلیشئرز نیپال سے زیادہ خطرے میں،60 گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خطرہ ہے:این ڈی ایم اے ایکسپرٹ
لاہور‘اسلام آباد(سپیشل رپورٹر‘آئی این پی )لاہور میں شدید گرمی اور حبس کے بعد بارش سے گرمی کی شدت میں کمی آگئی جبکہ موسم خوشگوار ہوگیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارش کا امکان ہے۔واسا لاہور کی جانب سے بارش کے اعدادوشمار جاری کر دیے گئے جس کے مطابق سب سے زیادہ بارش اقبال ٹاؤن میں 29.2 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔سمن آباد میں 27.8 ملی میٹر، گلشنِ راوی میں 23.4 ملی میٹر، اسلام پورہ بازار میں 13.2 ملی میٹر، نشتر ٹاؤن ڈائریکٹر آفس میں 9.6 ملی میٹر، گارڈن ٹاؤن علی بلاک میں 7.8 ملی میٹر، جیل روڈ پر 6.4 ملی میٹر، فرخ آباد میں 5 ملی میٹر اور سگیاں میں 5.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 1.6 ملی میٹر، واسا ہیڈ آفس گلبرگ میں 1 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 0.8 ملی میٹر اور پانی والا تالاب میں 0.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔دریں اثناء اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت گرد و نواح میں رات گئے موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا‘این ڈی ایم اے کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب  نے  نجی ٹی وی سے  گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے بڑھتا ہوا درجہ حرارت پاکستان میں گلیشئرز کے لیے خطرناک ہے۔ پاکستانی گلیشئرز نیپال سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے مختلف گلیشیائی جھیلیں ن چکی ہیں۔ 60 ایسی گلیشیائی جھیلیں ہیں جن کے پھٹنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ آئس راک کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر طیب نے انکشاف کیا کہ ان گلیشئرز میں کریکس بن چکے ہیں