سانوں کی۔۔۔ اسی کی کر سکدے ہاں

آپا منزہ جاوید
’’سانوں کی۔۔۔ اسی کی کر سکدے ہاں‘‘ یہ فقرہ ہمارے معاشرے میں کثرت سے بولا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب اور اس کی اہمیت شاید ہم میں سے بہت کم لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ جملہ دراصل ہماری اجتماعی بے حسی اور لاتعلقی کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی مسئلے کو اپنے سامنے دیکھ کر بھی یہ سوچ لینا کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں، ہم اس کے لیے کیا کر سکتے ہیں، آخرکار ایک ایسے معاشرے کو جنم دیتا ہے جہاں ظلم سہنے والا بھی تنہا رہ جاتا ہے اور ظلم کرنے والے کے حوصلے بھی بڑھتے جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جب کوئی مسئلہ چند افراد سے متعلق ہو تو ہم عموماً اسے ان کا ذاتی معاملہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ایک گھر کی چھوٹی سی مشکل اگر وقت پر نہ روکی جائے تو وہ بہت بڑے معاشرتی مسئلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے اردگرد ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جو ابتدا میں معمولی دکھائی دیتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پورے معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں۔

ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ گھریلو جھگڑے، بچوں کے ساتھ زیادتی، ظلم و تشدد اور ناانصافی کے واقعات روزانہ سامنے آتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی خبریں پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں لیکن جب تک کوئی واقعہ ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے نہ ہو، ہم اسے پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کبھی یہ سوچ کر کہ یہ ہمارے گھر کا مسئلہ نہیں، کبھی یہ کہ ہمیں اس معاملے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے اور کبھی یہ کہ ہم آخر کر ہی کیا سکتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہر شخص یہی سوچے تو پھر کسی مظلوم کی آواز کون بنے گا؟

تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں چند لوگوں نے ظلم کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے حق کے لیے آواز بلند کی اور اپنی قربانی پیش کی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ہمیشہ مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ حق کے لیے کھڑا ہونا کبھی آسان نہیں ہوتا لیکن یہی وہ کردار ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔

آج ہمیں تلواریں اٹھانے، ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکلنے یا کسی سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صرف اپنے اندر اتنی جرا?ت پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم غلط کو غلط اور درست کو درست کہہ سکیں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ کسی مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا فساد نہیں بلکہ انسانیت ہے، بشرطیکہ ہمارا طریقہ بھی مہذب، پْرامن اور قانون کے دائرے میں ہو۔

ہم حکومت سے اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں اور بعض اوقات دوسروں کو برا بھلا کہنے کو بھی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اپنے مطالبات کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی ضروری ہے؟

آج مہنگائی کا مسئلہ ہو، بے روزگاری ہو، تعلیم کا مسئلہ ہو یا معاشرتی بے امنی، ہم سب اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو صرف ایک گھر متاثر نہیں ہوتا، پورا معاشرہ اس کی زد میں آتا ہے۔ پھر ہم ایک دوسرے سے شکوہ کرتے ہیں لیکن اجتماعی طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے روزمرہ کے معاملات کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کریں، اپنے رویوں کو درست کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، اپنے اردگرد موجود کمزور لوگوں کی مدد کریں اور ظلم و ناانصافی کے خلاف پْرامن آواز بلند کریں تو معاشرے میں تبدیلی خود بخود محسوس ہونے لگے گی۔

ہمیں دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھنا ہوگا۔ کسی کے گھر میں پریشانی ہو تو اسے محض اس کا ذاتی مسئلہ سمجھ کر گزر جانے کے بجائے، جہاں ممکن ہو، اس کا ہاتھ تھامنا چاہیے۔ دوسروں کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی وہی عزت دینی چاہیے جو ہم اپنے گھر کی خواتین کے لیے چاہتے ہیں۔ اگر کسی عورت کو راستے میں ہراساں کیا جا رہا ہو، کسی بچے کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو یا کسی کمزور شخص پر ظلم ہو رہا ہو تو خاموشی اختیار کرنا ہماری ذمہ داری سے بری نہیں کر دیتا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ظلم اور ناانصافی ہمیشہ کسی ایک دروازے پر نہیں رکتی۔ آج اگر ظلم کسی دوسرے گھر میں ہے اور ہم نے یہ سوچ کر آنکھیں بند کر لیں کہ ’’یہ ہمارا مسئلہ نہیں‘‘ تو ضروری نہیں کہ کل وہ ہمارے اپنے دروازے تک نہ پہنچے۔

بے حسی کی قیمت بہت مہنگی ہوتی ہے۔

ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے، لوگ بدل گئے ہیں، حکومتیں بہتر کام نہیں کر رہیں، قانون پر عمل نہیں ہوتا اور ہر طرف بدعنوانی و ناانصافی ہے۔ لیکن معاشرہ آخر بنتا کن لوگوں سے ہے؟ ہم سب سے۔ اگر ہم اپنے حصے کی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو صرف دوسروں کو الزام دینے سے حالات کیسے بدلیں گے؟

اگر ہم اپنے روزمرہ کے بہت سے معاملات خود بہتر کرنا شروع کر دیں، اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھیں، قانون کی پابندی کریں، دوسروں کی عزت کریں اور ناانصافی کے خلاف مہذب انداز میں آواز اٹھائیں تو حکومتیں بھی بہتر کارکردگی کی طرف آئیں گی اور معاشرہ بھی آہستہ آہستہ سنورنے لگے گا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی صرف تقریروں سے نہیں آتی۔ تبدیلی کردار سے آتی ہے، عمل سے آتی ہے اور اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنے سے آتی ہے۔

اس لیے اگلی بار جب ہمارے سامنے کسی کا مسئلہ آئے تو فوراً یہ نہ کہیں کہ ’’سانوں کی۔۔۔ اسی کی کر سکدے ہاں‘‘ بلکہ ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں کہ اگر ہم نہیں تو پھر کون؟

کیونکہ معاشرہ ہم ہی سے بنتا ہے، اسے بہتر بھی ہم ہی کر سکتے ہیں۔

اور شاید کسی ایک انسان کے لیے اٹھایا گیا ہمارا ایک قدم، کسی کی پوری زندگی بدل دے۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔