عبدالرزاق برق
وائٹ ہاؤس میں دنیا کے طاقتورترین صدرڈونلڈ ٹرمپ اوریوکرینی صدرزیلنسکی کے درمیان ہونے والی 50 منٹ کے دھواں دھارملاقات تلخ کلامی میں بدلنے سے عالمی تعلقات کی تاریخ میں پہلی بار کسی میزبان نے اپنے دھرتی پر مہمان کی سفارتی تذلیل کرکے انہیں بے عزت کیاگیا اوردوصدیوں کی امریکی صدورکی تاریخ میں بھی ایسے روئیے اورطرزعمل کی شاہدہی کوئی مثال ملتی ہو لیکن دنیا کے نایاب معدنیات رکھنے والا ملک کے صدرکے ساتھ ایساروئیہ اور طرزعمل کرنے کے بعدوہ بنا کھانا کھائے اوول آفس سے سے روانہ ہوگیا سوال یہ پیداہوتا ہے کہ امریکی صدراورنائب صدر جے ڈی وینس دونوں کی طرف سے ایک جنگ زدہ اوربے بس حکمران کی بے عزتی سے خود امریکی صدر اور اس کے ملک کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟ حالانکہ دونوں صدور کے کے درمیان تلخ کلامی کے سامنے آنے سے ایک واضح عالمی اصول کی۔حقیقت دنیا کے سامنے پھرآشکارہوئی ہیے کہ بڑی طاقت کے مفادات جب تبدیل ہوجائیں توپھرکمزور ملک خواہ اتحادی ہویا مخالف کیمپ سے تعلق رکھتاہو وہ یکساں طورپربڑی طاقت کے ہاتھوں سردمہری اورناروا سلوک اورلاتعلقی کاشکارہوجاتاہیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکی صدراوریوکرینی صدر کے ملاقات میں تلخی پیداہونا سب سے زیادہ فوری اثرکس ملک پرپڑے گا؟ اس ملاقات کاسب سے فوری اثریوکرین کے لئے امریکی امداد کے مستقبل پرپڑے گا اوراس معاملے میں اگراختلافات بڑھ گئے توامریکہ کی یوکرین حمایت میں واضح کمی ہوگی اگرامریکہ واقعی مددروک دیتاہیے تویوکرین کواپنی بقاکے لئے مذیدیورپی یونین پرانحصارکرنا پڑے گا جوکہ ان کے لئے آسان نہیں ہوگا اس کے علاوہ اگرٹرمپ کی پالیسی روس کے لئے نرم ثابت ہوتی ہے تواس کے عالمی آثرات بہت دوررس ہوسکتے ہیں اورنیٹوکی یکجہتی پربھی سوالیہ نشان لگ سکتاہیے اگرچہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اوریوکرینی صدرکے درمیان پیداہونے والے بدمزگی کے چند دن بعد امریکی صدر نے یوکرین کوفوجی امداد بھجنا بندکردیا تودوسری طرف چند دن کے بعدزیلنسکی کایہ بیان سامنے آیا کہ وہ ٹرمپ کی قیادت میں یوکرین روس جنگ کے خاتمے پرمذاکرات کیلئے تیارہیں اب کسی بھی وقت یوکرین روس جنگ کی خاتمے کیلئے جنگ بندی ہوسکتا ہے اورساتھ ہی یوکرین کے صدر امریکی صدرٹرمپ کو یوکرین کے نایاب معدنیات کسی بھی وقت دے سکتاہیے زیلنسکی کی طرف سے امریکی صدرکی حمایت میں بیان آنے سے امریکہ نے یہ ثابت کردیکھایا کہ وہی سپرپاور ہیے برطانیہ اوریورپ امریکہ کامتبادل نہیں ہوسکتے اس کااندازہ زیلنسکی کو بھی ہوا کہ امریکہ کے بغیر نہ وہ رہیے گا نہ ہی یوکرین اب جب امریکی صدرنے امن اورسلامتی کے فروغ دینے کا جوفیصلہ کیا ہے وہ ایک مستحسن فیصلہ ہیے لیکن امریکی صدراوریوکرین کے صدرکے درمیان وائٹ ہاؤس میں جوبدمزگی پیداہوئی جس میں امریکی صدر نے ایک جنگ زدہ ملک کے بے بس صدرکی کتنی بے عزتی کی گئی اب تاریخ کے اوراک میں اس بدمزگی کے واقعے پر یہ لکھاجائے گا کہ ایک بے بس صدرنے ایک سپرپاورصدرکے گھرمیں کس طرح اپنے موقف کادفاع کیا امریکی صدر اوریوکرینی صدر کے درمیان تلخ کلامی کے دوران یوکرینی صدر55اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے ایک غیرت مندنکلا جس نے وائٹ ہاؤس میں بٹیھ کر اپنے ملک کے حق کی بات کی اورانتہائی سخت حالات میں کھبی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا انہوں نے بیعزتی برداشت کی لیکن ملکی مفادات کا سودانہ کیایوکرینی صدرکا آپ جتنا مرضی مذاق اڑالیں وہ اپنے ملکی وسائل کی حفاظت کی خاطرآخری حدتک چلاگیا اوردنیا کے سپرپاورملک کے صدرکے گھر میں بیٹھ کرکوراجواب دے دیا انہوں نے پورے دنیا کے میڈیاکے سامنے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ جرائت نڈربہادری سے اپنا موقف پیش کرکے ٹرمپ انتظامیہ کوڈانٹ کروادی گئی انہوں نے صدرکوکہا کہ گوکہ آپ نے امداددیا جنگی وسائل دیا ساتھ دیا لیکن وہ بلاکسی مشورے کے میں اپنے معدنی وسائل کوآپ کے حوالے نہیں کرسکتا اورنہ اندھا تقلیدکرسکتاہو نہ اپنے ملک کے سالمیت پرکمپرومائزکرسکتاہو زیلنسکی نے امریکی صدرکے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کروہ جوابات ان کے عقوبت خانے میں دئیے جوہمارے پاکستانی حکمران امریکہ سے 10ہزارکلومیٹردور اپنے وائٹساپ پہ نہیں دے سکتے زیلنسکی کے جوابات اورناراض اوول آفس سے نکلنے کے بعد دستاویزات پر دستخط کے سیسشن کوکینسل کرناپڑا زرا یادکریں وہ دورجب امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے پاکستانی آرمی چیف اورصدرپاکستان کوآدھی رات کوکال کرکے افغان وارمیں مددطلب کی تومشرف اس کے آگے مکمل حمایت کا اعلان کیا اوران کے مطالبات بھی مان لیئے تھے جوامریکہ نے کہے بھی نہ تھے اسی طرح ایک 18ویں سکیل کے ڈونلڈ لونے آرمی چیف باجوہ کوسائفرلکھ کرکہا کہ اپنے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتمادکریں باجوہ اس وقت بھی امریکی بات مان کر پی ٹی آئی کی حکومت ختم کردیا اورآئین کو تہنس نہس کردی ویسے یوکرینی عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک غیرت مندصدرملا اوروہ ایک طرف امریکی دباو جھیل کرکیایک مظبوط پوزیشن حاصل کرچکے ہیں اوردوسری جانب سفارتی تذلیل بھی برداشت کرنا پڑی لیکن حقیقت میں انہوں نے امریکی سخت شرائط پرڈیل کرکے ایک چالاک سیاسی چال چلی اوران کے انکارسے کمزورممالک کو امریکہ کے جواب دینے کاحوصلہ بھی مل۔گیا اورکمزورممالک کواس کی پیروی کرنی چاہئے کہ انہیں اپنی خودمختاری کسی کے ہاں ہرگزگروی نہیں رکھنی چاہئے اوول آفس میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک 47سالہ زیلنسکی کو اپنے دبدبے سے دبانا چاہتاتھا جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے انہیں دبانے کی کوشش کی اگریوکرین امریکی دباو میں نہیں آرہا توپھر ٹرمپ روس کے ساتھ کس یقین دہانی پرتعلقات بہتر کریں گے؟ لیکن یہ دبانے کی کوشش ناکام ہونے سے ٹرمپ انتظامیہ شدیدناراض دکھائی دی ٹرمپ اوراس کے انتظامیہ یوکرینی صدرکے ساتھ ڈیل اورروس کے ساتھ جنگ بندی کوآسان معاملہ سمجھ رہیے تھے اوروہ اس سلسلے میں امن اورڈیل کے ماسٹربننے کی ٹرافی حاصل کرنا چاہتے تھے جسے وہ اپنی انتخابی مہم میں بھر پورکیش کرواسکتے تھے لیکن اب وہ مشکل صورتحال میں ہیں اور صدرزیلنسکی امریکی صدر کے سامنے ڈٹ گیا اوروہ امریکی پیش کش امریکی سیکورٹی ضمانت کے بغیر معاہدہ اورصلح کی بے نتیجہ کوششوں کومستردکردیا اوروہ خود یورپ اوربرطانیہ کے قریب ہوگیا اب اگرٹرمپ یورپ کونظراندازکرتے ہیں تویہ ان کے لئے آسان نہیں ہوگا کیونکہ یوکرین نے یورپ اوربرطانیہ کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کاعندیہ دیاہیے اب یورپ ایک علحیدہ بلاک بنانے کی طرف بڑھ رہاہیے جس میں فرانس اوربرطانیہ قیادت کریں گے اس گروپ کے چین کے ساتھ تعلقات مظبوط ہونے کاامکان ہیے جوامریکہ کے لئے ایک اوربڑاچیلنج بن سکتا ہیے یورپی یونین زیلنسکی کو اکیلانہیں چھوڑے گا انہوں نے حمایت کاعادہ کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حمایت کب تک برقراررہیے گی ؟ مغربی ممالک یوکرین کواتنی دیرتک مددفراہم کرسکیں گے جب تک وہ مکمل طورپرکامیاب نہ ہوجائے اگرچہ یورپ کی حمایت موجودہ وقت میں بہت مضبوط ہیے لیکن اسے ہمیشہ کیلئے گارنٹی نہیں کیاجاسکتا یورپی یونین کے ایک اہم ملک برطانیہ نے دوارب ڈالرقرضہ دینے کا اعلان کیا لیکن یہ قرضہ اورامداد یوکرین کو دینے سے امریکہ کا متبادل نہیں ہوسکتا اس قرضے کامقصد یوکرینی عوام کی فلاح وبہبودکے لئے نہیں بلکہ ان ڈالروں سے ہتھیار خریدکریوکرین کو مذیدجنگ میں دھکیلنا ہیے جس سے یوکرین کانقصان واضح ہیے زیلنسکی کوچاہیے کہ حقائق کاادراک کریں پاکستان کے نقش قدم پرنہ چلے اوراپنے پڑوس میں موجودروس سے تعلقات استوارکریں اورجنگ سے اجتناب کریں ورنہ وہ دن دورنہیں جب یوکرین کابچہ بچہ مغربی ممالک کے قرضوں میں جگڑجائے گا اورپاکستان کی طرح ان مغربی ممالک کی قرض اورسودکی ادائیگوں کے لئے imf سے قرض کے لئے ماراماراپھرے گا اور imf ناک کی لکیریں نکلواکربدترین شرائط قرض دے گاتوزیلنسکی براہ راست قوم کے لئے اپنے خطاب میں خیرات ملنے کی خوشخبری سنائے۔گا یورپ والوں نے یہ بھی سمجھ لیا ہے کہ امریکہ کھبی بھی ہمارادوست یاخیرخواہ نہیں ہوسکتا لیکن یورپ یوکرین کوایک ہارے ہوئے جنگ میں قرض کے بوجھ تلے دبارہی ہیے اوروہ دوملکوں کی جنگ کوپوری دنیا میں پھلاناچاہتی ہیے اگرچہ برطانیہ یوکرین کو دوارب ڈالرقرض دینے سے ایک بارپھرثابت کیا کہ وہ دنیامیں امن کاحامی نہیں ہے اوریوکرین کوقرض دے کرجنگ کوجاری رکھنا چاہتاہیے حالانکہ انہیں یوکرین کوقرض نہیں امداددیناچاہیے کیونکہ یوکرین پورے یورپ کاجنگ لڑرہاہیے درحقیقت یہ رقم بھی قرضے کی۔صورت میں روس کے خلاف محازآرائی یا جنگ کا لمباسلسلہ۔جاری رکھنے کی پالیسوں کاتسلسل برقراررکھنے کے لِئے نہ کہ۔تعمری کاموں کے لئے اورقرضے کی واپسی کی۔راہ بلکل۔مختلف روپ۔دھارلے گی۔ ادھرناروے نے امریکی آبدوزکوتیل دینے سے انکارکرتے ہوئے اپنے علاقے سے نکل جانے کاکہا امریکہ صحیحی جھٹکا تب لگے لگا اگریورپ چین کی ناکہ بندی میں امریکہ کاساتھ نہ دینے کا فیصلہ کرلیں واضح رہے کہ یوکرین روس کی جنگ میں امریکی ہتھار اہم ہوتے ہوئے امریکہ نے 2021سے 2025تک یوکرین کوایک اطلاع کے مطابق 66ارب ڈالر کی فوجی امدادفراہم کرچکاہیے جس میں راکٹ ٹینک 20ایم آئی ہلی کاپٹر برقی الات طبی۔سامان کیمائی حیاتیاتی ریڈیو لاجیکل جوہرحفاظی الات سردی بچاو کے الات ہتھاروں کے سپئرپارٹس شامل ہیں اس ہتھاروں کے بدلے امریکہ یوکرین سے 4ٹریلین ڈالرکے معدنیات لینا چاہتاہیے جس کے لئے اس وقت امریکہ کی سرگرمیاں زوروشور سے جاری ہے