واشنگٹن ے موصولہ اطلاعات کے مطابق، امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا اور خبردار کیا کہ آئندہ چند روز میں مزید تباہ کن حملے ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری فوری طور پر اپنے قریبی سفارتخانوں سے رابطہ کریں۔ اب تک تقریباً 1600 امریکی شہریوں نے خطے سے انخلاء کے لیے مدد طلب کی ہے۔مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ ایک امریکی قونصلیٹ کے احاطے اور پارکنگ ایریا میں ڈرون گرایا گیا، جبکہ امریکی سفارتی دفاتر براہِ راست حملوں کی زد میں ہیں۔ انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں امریکی سفارتخانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر ایرانی رجیم کو جوہری طاقت مل گئی تو نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سینٹ کام ایرانی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنے میں مصروف ہے اور دنیا کی دو طاقتور ترین فضائیہ اس مشترکہ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
مارکو روبیو کے مطابق ایرانی جوہری صلاحیت، میزائل پروگرام اور بحریہ امریکی اہداف میں شامل ہیں، اور تین بڑے اہداف تقریباً حاصل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درست وقت کا انتخاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تاکہ مستقبل میں ایران کو روکنا ممکن ہو۔انہوں نے بتایا کہ فضائی حدود کی بندش سے کچھ چیلنجز درپیش ہیں، تاہم مشترکہ آپریشن اسی لیے کیا گیا تاکہ اہداف کو کامیابی سے حاصل کیا جا سکے۔