کوئٹہ: ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے میں ہلاکتیں 13 تک پہنچ گئیں

کوئٹہ: ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے میں ہلاکتیں 13 تک پہنچ گئیں

کوئٹہ: ایف سی ہیڈ کوارٹر پر گزشتہ حملے کے زخمی ایک اور فرد محمد رفیق ولد صدیق سکنہ قلات نے گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوگئی۔

 اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی کی لاش ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹر کے قریب پشین اسٹاپ پر ایک سوزوکی وین میں 25 سے 30 کلو گرام بارودی مواد نصب کیا، خودکش حملہ آور کے ساتھ پانچ دیگر مسلح دہشت گرد بھی موجود تھے، جو ہیڈ کوارٹر میں ون وے کے راستے سے داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایف سی اہلکاروں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں تین ایف سی اہلکاروں سمیت 12 افراد شہید اور آٹھ اہلکاروں اور پانچ خواتین سمیت 36 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو سول اسپتال ٹراما سینٹر اور دیگر طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے مطابق دو ہلاک دہشت گردوں کی شناخت نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے فنگر پرنٹس کے ذریعے کی ہے۔ ایک دہشت گرد کا تعلق میزئی اڈہ جبکہ دوسرے کا ضلع چاغی سے ہے، تاہم ان کے نام جاری نہیں کیے گئے۔ دیگر ہلاک دہشت گردوں کے اعضاء فرانزک تجزیے کے لیے پنجاب منتقل کر دیے گئے ہیں تاکہ ان کی شناخت اور نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔

سی ٹی ڈی نے جائے وقوعہ سے 15 دستی بم، تین گرنیڈ لانچر، چار کلاشنکوف اور دیگر دھماکا خیز مواد برآمد کیا، جو دہشت گردوں کی منظم منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔ تحقیقات میں حملے کا تعلق فتنۃ الخوارج گروپ سے جوڑا جا رہا ہے، جو بھارتی پراکسی کے طور پر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔سی ٹی ڈی نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جس میں قتل، قاتلانہ حملہ اور دیگر سنگین دفعات شامل ہیں۔ سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کی اور ایف سی جوانوں کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے شہداء کے اہل خانہ کے لیے فوری امداد اور زخمیوں کے علاج کے بہترین انتظامات کی ہدایت کی۔

سیکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔