غزہ میں امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی جارحیت بدستور جاری ہے۔ حماس کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کو بڑی حد تک قبول کرنے اور امریکی صدر کی جانب سے اسرائیل سے بمباری فوری طور پر روکنے کے مطالبے کے باوجود، اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ کے گنجان آباد علاقوں میں فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ کے علاقے الرمل میں النور سینٹر کے قریب گزشتہ شب اسرائیلی فضائی حملہ اُس وقت کیا گیا جب مقامی رہائشی انخلاء کی اطلاع ملنے کے بعد اپنے مکانات خالی کر رہے تھے۔ ان حملوں میں شہریوں کی جان و مال کے ممکنہ نقصان کی خبریں سامنے آئی ہیں، تاہم حتمی اعداد و شمار اور متاثرین کی تصدیق کے لیے مزید معتبر ذرائع کی ضرورت ہے۔حماس نے اس ضمن میں یرغمال اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کے انتظام کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے بیان کے بعد اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ پر بمباری فوری طور پر روکی جائے تاکہ یرغمالیوں کی محفوظ اور جلد رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل:
ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا رہا ہے کہ شہری علاقوں پر ہونے والے حملے شدید خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
نوٹ: آن لائن وائرل ویڈیوز اور دعووں کی آزاد تصدیق ابھی جاری ہے، اور متاثرہ علاقوں سے مزید تفصیلات آنے کا امکان ہے۔