ایس آئی ایف سی کی کوششوں سے پاکستان اور آسیان ممالک میں تجارتی تعاون بڑھنے لگا

ایس آئی ایف سی کی کوششوں سے پاکستان اور آسیان ممالک میں تجارتی تعاون بڑھنے لگا

پاکستان اور آسیان (ASEAN) ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی و اقتصادی تعلقات کی اہم پیشرفت کو اجاگر کرتی ہے — جس کا مرکز ایس آئی ایف سی (Special Investment Facilitation Council) کے تحت کی جانے والی کوششیں ہیں۔

تفصیلی جائزہ:
اسلام آباد میں وزارتِ تجارت میں ہونے والی ایک اہم ملاقات میں پاکستان اور آسیان ممالک (جن میں انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام، فلپائن، سنگاپور، میانمار، کمبوڈیا، لاؤس اور برونائی شامل ہیں) کے سفیروں نے شرکت کی۔اس ملاقات کا مقصد دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور زرعی ترقی کے نئے مواقع تلاش کرنا تھا۔

اہم نکات:

ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان نے نئی تجارتی پالیسی اور ٹیرف اصلاحات متعارف کرائیں، جن کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور برآمدات کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کی جانب سے آسیان کمپنیوں کو سی پیک اسپیشل اکنامک زونز (CPEC SEZs) میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی، جہاں توانائی، ٹیکسٹائل، فوڈ پراسیسنگ، لوجسٹکس اور زراعت کے شعبوں میں مواقع دستیاب ہیں۔
وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا کہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور زرعی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے پاکستان میں صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
جام کمال کے مطابق پاکستان وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اقتصادی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، جس سے آسیان ممالک کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی۔
ملائیشیا کے سفیر نے اس موقع پر پاکستانی کمپنیوں کو سیمی کنڈکٹر (Semiconductor) انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا اس شعبے میں پاکستان کے ساتھ تکنیکی تعاون کے لیے تیار ہے۔
یہ ملاقات علاقائی اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کی ایک کڑی ہے، جس سے پاکستان نہ صرف آسیان منڈیوں تک اپنی رسائی بڑھا سکتا ہے بلکہ سی پیک کے ذریعے اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کا مؤثر استعمال بھی کر سکتا ہے۔