طورخم سرحد سات روز سے بند، تجارتی سرگرمیاں معطل اور قیمتیں بڑھنے لگیں

طورخم سرحد سات روز سے بند، تجارتی سرگرمیاں معطل اور قیمتیں بڑھنے لگیں

طورخم بارڈر گزشتہ سات روز سے بند ہونے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہیں اور پیدل آمدورفت بھی بند ہے۔

 سرحدی کشیدگی کے نتیجے میں طورخم شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، جس سے ٹریفک جام اور آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ، مال بردار گاڑیوں میں لدا ہوا سامان خراب ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہے، جس سے تاجروں میں تشویش پھیل گئی ہے۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو مزید سامان ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع کے مطابق، سرحد کی بندش کے سبب دونوں جانب اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بے حد اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے عوامی سطح پر مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاجر اور ٹرانسپورٹرز نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک افغان کشیدگی کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے تاکہ سرحد دوبارہ کھولی جا سکے اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحد پر جاری کشیدگی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے، اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوامی اور تجارتی نقصانات کو روکا جا سکے۔